مخلوق کو اخلاق کی سوغات عطا کر۔

 

مخلوق کو اخلاق کی سوغات عطا کر
تا عمر جو چمکے وہ طلسمات عطا کر

رحمت کی حالت بن کے جو اعصاب پہیلی چمکے
غوث محبت کی وہ عطا کر

اقصیٰ کی فصیلوں پہ فرشتے نہیں آتے
معراج کی ہم کو پھر رات عطا کر

کب تک ترے ہونٹوں کے تبسم کو ضیاء دیں۔
چاہت کو مری حسن کی سوغات عطا کر

دنیا ترے گھر کی زیارت سے مشرف ہے۔
شیخو بھی زیارت میں وہ عرفات عطا کر

وہ شعری تخیل جو مرے عرش بریں پر
گہرے سمندر سے خیالات عطا کر

تحفے میں دیتے تھے جو میر کی غزلیں ہیں۔
اشعار میں تابش کی بات عطا کر

کلام :تابش رامپوری (ممبئی)