جسم میں پانی کی کمی — ایک نظر میں
پاکستان میں گرمی کے موسم میں ہر سال لاکھوں افراد جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) کا شکار ہوتے ہیں۔ پانی کی کمی صرف پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ جسم کے تمام اہم نظاموں کو متاثر کرنے والی ایک سنگین حالت ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر بچے اور بزرگ اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
- جسم میں پانی کی کمی تب ہوتی ہے جب پانی کا اخراج جذب سے زیادہ ہو جائے۔
- علامات میں خشک منہ، چکر، تھکاوٹ اور کم پیشاب شامل ہیں۔
- پاکستان میں گرمی، اسہال اور غذائی بے توجہی اہم وجوہات ہیں۔
- بچوں اور بزرگوں میں پانی کی کمی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔
- روزانہ مناسب پانی پینا اور متوازن غذا اس سے بچاؤ کا بنیادی طریقہ ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کیا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟
جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم سے خارج ہونے والا پانی اندر جانے والے پانی سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے جو خون، ہاضمہ اور دماغی افعال کے لیے ضروری ہے۔ جب یہ توازن بگڑ جائے تو جسم کے تمام نظام متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
| قسم | خصوصیت | کون متاثر |
|---|---|---|
| ہلکی کمی (Mild Dehydration) | جسم میں 1-2% پانی کی کمی | ہر عمر — خاص طور پر گرمی میں |
| درمیانی کمی (Moderate Dehydration) | جسم میں 3-5% پانی کی کمی | بچے، محنت کش، کھلاڑی |
| سنگین کمی (Severe Dehydration) | جسم میں 6% سے زیادہ پانی کی کمی | بچے، بزرگ، اسہال کے مریض |
| دائمی کمی (Chronic Dehydration) | طویل عرصے تک کم پانی پینا | وہ افراد جو پانی کم پیتے ہیں |
پاکستانی آبادی میں سب سے عام ہلکی اور درمیانی قسم کی پانی کی کمی ہے جو خاص طور پر گرمیوں اور رمضان المبارک میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ بچوں میں اسہال اور قے کی وجہ سے سنگین پانی کی کمی زیادہ تیزی سے ہو سکتی ہے۔ دائمی پانی کی کمی اکثر بغیر علامات کے بھی جاری رہتی ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کی وجوہات اور خطرے کے عوامل
جسم میں پانی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ ناکافی پانی پینا اور زیادہ پسینہ آنا ہے۔ اسہال، قے اور بخار بھی جسم سے پانی تیزی سے خارج کر دیتے ہیں اور یہ پاکستان میں بہت عام وجوہات ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں بار بار پیشاب کی وجہ سے بھی پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔
قابل تبدیل عوامل (جن پر قابو پایا جا سکتا ہے):
- کم پانی پینے کی عادت
- انتہائی گرمی میں باہر کام کرنا
- زیادہ چائے، کافی یا میٹھے مشروبات کا استعمال
- اسہال یا قے میں پانی کی جگہ دوا پر انحصار
ناقابل تبدیل عوامل:
- چھوٹی عمر (نوزائیدہ اور چھوٹے بچے)
- بزرگ عمر (65 سال سے زیادہ)
- ذیابیطس یا گردے کی بیماری
- بعض ادویات (Diuretics) کا استعمال
پاکستانی طرز زندگی کے خاص عوامل: پاکستان میں گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے جو پانی کی کمی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والے بزرگ اور بیمار افراد خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں صاف پانی کی کمی بھی پانی کے استعمال کو محدود کر دیتی ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کی علامات اور نشانیاں
جسم میں پانی کی کمی کی ابتدائی علامات عام طور پر ہلکی اور قابل توجہ ہوتی ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ پیاس لگنا دراصل پانی کی کمی کی دیر سے آنے والی علامت ہے اور جب پیاس لگے تب تک جسم میں ایک فیصد پانی کم ہو چکا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ یہ علامات معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ابتدائی علامات:
- خشک منہ اور ہونٹ
- گہرے پیلے رنگ کا پیشاب
- تھکاوٹ اور کمزوری
- سر درد
- ہلکا چکر
- کم پیشاب آنا
سنگین علامات جن پر فوری ڈاکٹر سے ملیں:
- آنکھیں اندر دھنس جانا
- بہت تیز دھڑکن
- بیہوشی یا بے ہوشی
- آٹھ گھنٹے سے زیادہ پیشاب نہ آنا
- جلد کی لچک کم ہو جانا
- سانس لینے میں دشواری
بچوں میں جسم میں پانی کی کمی کی علامات
بچوں میں پانی کی کمی بہت تیزی سے خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں ڈائپر خشک رہنا، رونے میں آنسو نہ آنا اور چڑچڑاپن اہم علامات ہیں۔ والدین کو ان علامات پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
بزرگوں میں جسم میں پانی کی کمی کی علامات
بزرگ افراد میں پیاس کا احساس کم ہو جاتا ہے اس لیے وہ اکثر پانی کی کمی کو محسوس نہیں کرتے۔ بزرگوں میں الجھن، یادداشت کی کمزوری اور کمزوری پانی کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ خاندان والوں کو بزرگوں کو باقاعدگی سے پانی پینے کی یاد دہانی کرانی چاہیے۔
جسم میں پانی کی کمی کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
ڈاکٹر عموماً مریض کی علامات اور جسمانی معائنے سے پانی کی کمی کا ابتدائی اندازہ لگاتے ہیں۔ جلد کی لچک (skin turgor) جانچنا ایک آسان اور قابل اعتماد طریقہ ہے جو ڈاکٹر کلینک میں ہی کر سکتا ہے۔ اگر پانی کی کمی سنگین ہو تو لیبارٹری ٹیسٹ بھی ضروری ہو سکتے ہیں۔
| ٹیسٹ کا نام | کیا جانچتا ہے | معمول کی حد |
|---|---|---|
| Serum Electrolytes | سوڈیم، پوٹاشیم، کلورائیڈ کی سطح | Na: 135-145 mEq/L |
| Blood Urea Nitrogen (BUN) | گردے کی کارکردگی | 7-20 mg/dL |
| Urine Specific Gravity | پیشاب کا ارتکاز | 1.005 – 1.030 |
| Complete Blood Count | خون کا مکمل جائزہ | متعلقہ اقدار کے مطابق |
| Serum Creatinine | گردوں کی کارکردگی | 0.6 – 1.2 mg/dL |
پاکستان میں یہ ٹیسٹ کسی بھی سرکاری یا نجی لیبارٹری میں کروائے جا سکتے ہیں۔ Serum Electrolytes ٹیسٹ کی اوسط قیمت 800 سے 1500 روپے تک ہو سکتی ہے۔ سنگین پانی کی کمی کی صورت میں جنرل فزیشن یا ہسپتال کے Emergency Department سے فوری رجوع کریں۔
جسم میں پانی کی کمی کا علاج — عمومی طبی طریقے
جسم میں پانی کی کمی کا علاج اس کی شدت پر منحصر ہے اور علاج ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ ہلکی اور درمیانی پانی کی کمی میں زیادہ پانی پینا اور ORS محلول استعمال کرنا کافی ہو سکتا ہے۔ سنگین پانی کی کمی میں ہسپتال میں داخل ہو کر نس کے ذریعے (Intravenous) پانی اور نمکیات دیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں ORS (Oral Rehydration Solution) ہر بڑی دوائی کی دکان پر دستیاب ہے اور یہ WHO کی تجویز کردہ پہلی لائن علاج ہے۔ 2024 میں WHO کی رہنما ہدایات کے مطابق اسہال کے مریضوں میں فوری ORS شروع کرنا موت کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔ پاکستانی وزارت صحت نے بھی ORS کو ابتدائی گھریلو علاج کے طور پر تجویز کیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں پانی کی کمی کا بنیادی علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ NHRC کی ہدایات کے مطابق گھریلو ORS کے لیے ایک لیٹر صاف پانی میں چھ چائے کے چمچ چینی اور آدھا چمچ نمک ملائیں۔ یہ محلول بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے محفوظ اور مؤثر ہے۔
جسم میں پانی کی کمی میں طرز زندگی اور غذائی احتیاط
جسم میں پانی کی کمی سے بچنے اور صحت یابی میں طرز زندگی اور غذا کا کردار بہت اہم ہے۔ ایک عام بالغ پاکستانی کو روزانہ کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پینا چاہیے اور گرمیوں میں یہ مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ورزش یا سخت محنت کے دوران ہر پندرہ سے بیس منٹ بعد پانی پینا ضروری ہے۔
فائدہ مند غذائیں اور مشروبات:
- تربوز، کھیرا، ٹماٹر (پانی کی مقدار زیادہ)
- دہی اور لسی — نمکیات کی بھرپائی کرتے ہیں
- ناریل کا پانی — قدرتی الیکٹرولائٹ
- نمک اور چینی کا شربت (گھریلو ORS)
- پھلوں کا تازہ رس — مگر سادہ پانی کا متبادل نہیں
پرہیزی چیزیں:
- زیادہ چائے اور کافی — پیشاب زیادہ لاتے ہیں
- میٹھے کولڈ ڈرنکس — پانی کی پیاس بجھاتے نہیں
- نمکین اور تلی ہوئی غذائیں — زیادہ پانی چاہتی ہیں
- انتہائی مسالہ دار کھانے — پسینہ زیادہ لاتے ہیں
پاکستانی روایتی مشروبات جیسے ستو، جلجیرہ اور آم پنا گرمیوں میں پانی کی کمی کے خلاف بہت مفید ہیں۔ نماز کے وقفوں میں پانی پینے کی عادت ڈالنا ایک عملی طریقہ ہے خاص طور پر دفتر میں کام کرنے والوں کے لیے۔ کھانے کے ساتھ ہمیشہ ایک گلاس پانی پینا روزانہ کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کی پیچیدگیاں اور طویل مدتی خطرات
علاج نہ ہونے کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی کئی سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں گرمی کی لہر کے دوران ہر سال پانی کی کمی سے متعدد اموات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں یہ خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
قلیل مدتی پیچیدگیاں:
- گردوں کی شدید کمزوری (Acute Kidney Injury)
- بے ہوشی (Loss of Consciousness)
- دورے پڑنا (Seizures)
- خون کا جمنا (Blood Clotting)
- Low Blood Pressure اور جھٹکا (Shock)
طویل مدتی پیچیدگیاں:
- گردے کی پتھری (Kidney Stones) — پاکستان میں بہت عام
- گردے کی دائمی بیماری (Chronic Kidney Disease)
- قبض کا مستقل مسئلہ
- جوڑوں میں درد
- ذہنی کمزوری اور یادداشت پر اثر
کن حالات میں پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں: جب پانی کی کمی کے ساتھ بخار یا اسہال بھی ہو تو پیچیدگیاں زیادہ تیزی سے آ سکتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں پانی کی کمی گردوں کو جلدی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جن افراد کو پہلے سے دل یا گردے کی بیماری ہو ان میں خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
جسم میں پانی کی کمی سے بچاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر
جسم میں پانی کی کمی سے بچاؤ کا سب سے آسان طریقہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت ڈالنا ہے۔ پاکستانی ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ ہر ایک کے گھر میں پانی کا جگ یا بوتل ہمیشہ دسترس میں ہونی چاہیے۔ موبائل فون میں یاد دہانی لگانا بھی پانی پینے کی عادت کو مستحکم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
عملی بچاؤ کی تدابیر:
- روزانہ صبح اٹھتے ہی دو گلاس پانی پئیں
- گھر سے نکلتے وقت پانی کی بوتل ساتھ رکھیں
- گرمیوں میں دوپہر کے وقت گھر میں رہیں
- سخت محنت کے دوران ہر گھنٹے میں پانی پئیں
- بچوں کو اسکول کے لیے پانی کی بوتل ضرور دیں
- اسہال شروع ہوتے ہی فوری ORS شروع کریں
- بیماری میں بھی پانی پینا بند نہ کریں
پاکستان میں گرمیوں میں صبح دس بجے سے شام چار بجے تک باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر نکلنا ضروری ہو تو ٹوپی یا چادر استعمال کریں۔ رمضان سے پہلے خاص طور پر بزرگ اور بیمار افراد کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کہ آیا روزہ رکھنا ان کے لیے محفوظ ہے۔ مئی سے اگست میں پانی کی مقدار خود بخود بڑھا دیں اور کم از کم بارہ گلاس پانی کا ہدف رکھیں۔
جسم میں پانی کی کمی سے متعلق خاص احتیاط اور عام غلط فہمیاں
جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں معاشرے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اکثر لوگ پانی کی کمی کو صرف گرمیوں کا مسئلہ سمجھتے ہیں جبکہ یہ سردیوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ صحیح معلومات سے بروقت اقدام ممکن ہو سکتا ہے۔
حاملہ خواتین میں جسم میں پانی کی کمی
حمل کے دوران جسم کو عام دنوں سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پانی نال (Placenta) اور بچے کو سہارا دیتا ہے۔ حاملہ خواتین میں پانی کی کمی سے قبل از وقت درد، پیشاب کی نالی کی سوزش اور بچے کی کم نشوونما ہو سکتی ہے۔ حاملہ خواتین کو روزانہ کم از کم دس سے بارہ گلاس پانی پینے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
بچوں میں جسم میں پانی کی کمی — والدین کے لیے ہدایت
چھوٹے بچوں میں پانی کا توازن بہت جلد بگڑ سکتا ہے اور والدین کو ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے۔ اگر بچے کو اسہال یا قے ہو تو فوری ORS شروع کریں اور گھر پر علاج نہ کریں بلکہ ڈاکٹر سے ملیں۔ والدین کو بچوں کو کولڈ ڈرنکس کی بجائے پانی، لسی اور پھلوں کا رس دینے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
بزرگ افراد میں جسم میں پانی کی کمی کے خاص خطرات
بزرگ افراد میں پیاس محسوس کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اس لیے وہ پانی کم پیتے ہیں۔ گردوں کی کارکردگی بھی عمر کے ساتھ کم ہو جاتی ہے جس سے پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاندان کے افراد کو بزرگوں کو دن میں کئی بار پانی دینا چاہیے چاہے وہ پیاس محسوس نہ کریں۔
جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں 5 عام غلط فہمیاں
- غلط فہمی 1: “کولڈ ڈرنک پانی کا متبادل ہے” — حقیقت: میٹھے مشروبات پانی کی کمی کو اور بڑھاتے ہیں
- غلط فہمی 2: “صرف پیاس لگنے پر پانی پینا کافی ہے” — حقیقت: پیاس لگنا پہلے سے کمی کی علامت ہے
- غلط فہمی 3: “سردیوں میں پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے” — حقیقت: سردیوں میں بھی مناسب پانی ضروری ہے
- غلط فہمی 4: “چائے بھی پانی کی مقدار میں شمار ہوتی ہے” — حقیقت: چائے اور کافی پانی کی کمی کر سکتے ہیں
- غلط فہمی 5: “پانی کی کمی صرف بچوں کا مسئلہ ہے” — حقیقت: ہر عمر میں یہ مسئلہ ہو سکتا ہے
پاکستانی معاشرے میں جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں رویہ اور حقیقت
پاکستان میں بہت سے لوگ پانی کی کمی کو سنجیدہ طبی مسئلہ نہیں سمجھتے اور گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بچوں کے اسہال اور پانی کی کمی سے ہونے والی اموات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ بروقت ORS اور ڈاکٹر سے رجوع ان اموات کو روک سکتا ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات
روزانہ کتنا پانی پینا ضروری ہے؟
ایک عام بالغ کو روزانہ آٹھ سے دس گلاس یعنی دو لیٹر پانی پینا چاہیے۔ گرمیوں، ورزش یا بیماری کی صورت میں یہ مقدار بڑھانی چاہیے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو مزید پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیا چائے پینے سے پانی کی کمی ہوتی ہے؟
چائے اور کافی میں کیفین ہوتی ہے جو پیشاب زیادہ لاتی ہے اور پانی کی کمی کر سکتی ہے۔ ایک سے دو کپ چائے روزانہ عام طور پر نقصاندہ نہیں لیکن زیادہ مقدار نقصاندہ ہو سکتی ہے۔ چائے کے ساتھ برابر مقدار میں سادہ پانی پینا بھی ضروری ہے۔
پانی کی کمی کو گھر پر کیسے پہچانیں؟
پیشاب کا رنگ پانی کی سطح جانچنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ اگر پیشاب ہلکا پیلا ہے تو پانی کی مقدار ٹھیک ہے اور گہرا پیلا یا نارنجی ہے تو پانی کم ہے۔ صبح اٹھتے وقت خشک منہ اور سر درد بھی رات کی پانی کی کمی کی علامت ہو سکتے ہیں۔
کیا روزے کے دوران پانی کی کمی خطرناک ہو سکتی ہے؟
صحت مند بالغ افراد کے لیے معتدل موسم میں روزہ رکھنا عام طور پر محفوظ ہے۔ بزرگ، بیمار، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ سحری اور افطار کے درمیان پانی کی مناسب مقدار پینے سے دن بھر کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔
بچے کو اسہال ہو تو گھر پر کیا کریں؟
بچے کو فوری ORS محلول دینا شروع کریں جو گھر پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔ اگر بچہ ہر گھنٹے میں تین سے چار بار اسہال کر رہا ہو یا قے بھی ہو تو فوری ڈاکٹر سے ملیں۔ گھر پر بچے کو اپنی مرضی سے کوئی بھی دوا دینے سے گریز کریں۔
کیا گردے کی پتھری کا تعلق پانی کی کمی سے ہے؟
جی ہاں، پانی کم پینے کی وجہ سے پیشاب گاڑھا ہو جاتا ہے اور معدنیات جم کر پتھری بناتے ہیں۔ پاکستان میں گردے کی پتھری بہت عام ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ کم پانی پینا ہے۔ روزانہ پانی کی مناسب مقدار پتھری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
کیا پانی کی کمی سے وزن بڑھتا ہے؟
پانی کی کمی سے جسم غذا کو صحیح طریقے سے ہضم نہیں کر پاتا اور میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ پانی کم پینے سے بھوک زیادہ لگتی ہے اور اکثر لوگ پیاس کو بھوک سمجھ کر زیادہ کھاتے ہیں۔ مناسب پانی پینے سے وزن کنٹرول کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
جسم میں پانی کی کمی اور ملتی جلتی بیماریوں کا تقابل
جسم میں پانی کی کمی کو کئی دوسری بیماریوں سے الجھایا جا سکتا ہے اس لیے درست تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے۔ اکثر گرمی لگنے اور پانی کی کمی کی علامات ملتی جلتی ہوتی ہیں اس لیے فرق کرنا ضروری ہے۔ ذیل کے جدول میں اہم فرق بیان کیا گیا ہے۔
| بیماری | اہم علامت | وجہ | عمومی علاج | فرق |
|---|---|---|---|---|
| پانی کی کمی | خشک منہ، گہرا پیشاب، تھکاوٹ | کم پانی پینا، اسہال، پسینہ | ORS، زیادہ پانی | پانی پینے سے بہتر ہوتا ہے |
| Heat Stroke | بہت تیز بخار، پسینہ نہ آنا | انتہائی گرمی | فوری ٹھنڈا کرنا، ICU | جان لیوا ہو سکتا ہے |
| گردے کی خرابی | کم پیشاب، سوجن، بدبودار سانس | گردے کا نقصان | ڈائیلاسز، دوائیں | پانی پینے سے بہتر نہیں ہوتا |
| ذیابیطس | زیادہ پیاس اور پیشاب | انسولین کا عدم توازن | انسولین، دوائیں | پانی پینے سے پیاس ختم نہیں ہوتی |
کب ڈاکٹر سے فوری ملنا ضروری ہے:
- آٹھ گھنٹے سے زیادہ پیشاب نہ آئے
- مریض بے ہوش ہو جائے یا ذہنی الجھن ہو
- بچہ رونا بند کر دے یا بہت سست ہو جائے
- بخار کے ساتھ پانی کی کمی کی علامات ہوں
- ORS پینے کے بعد بھی بہتری نہ ہو
مزید معلومات کے لیے اسہال اور پانی کی کمی میں ORS کا استعمال پڑھیں۔ گردے کی پتھری کی وجوہات اور بچاؤ پر بھی ہمارا مفید مضمون موجود ہے۔ بچوں میں اسہال کی علامات اور گھریلو دیکھ بھال پر والدین کے لیے خصوصی رہنما بھی ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ جات اور مستند ذرائع
- عالمی ادارہ صحت — اسہال اور پانی کی کمی رہنما اصول
- پاکستان نیشنل ہیلتھ سروسز — قومی صحت رہنما ہدایات
- WHO — ORS فارمولا اور ہدایات 2024
طبی جائزہ کار: ڈاکٹر عبداللہ خلیل
اہم نوٹ: یہ مضمون صرف عام صحت آگاہی کے لیے ہے۔ یہ کسی بھی طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔ کسی بھی علامت یا صحت کے مسئلے کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔