ایک نظر میں
- غذائیت وہ عمل ہے جس میں جسم خوراک سے توانائی اور ضروری اجزا حاصل کرتا ہے۔
- پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، چکنائی، وٹامن اور معدنیات غذائیت کے بنیادی اجزا ہیں۔
- غذائی قلت بچوں میں نشوونما روکتی ہے اور بالغوں میں دائمی بیماریاں بڑھاتی ہے۔
- پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے دائمی غذائی قلت کا شکار ہیں۔
- متوازن غذا ذیابیطس، دل کی بیماری اور موٹاپے سے بچاتی ہے۔
تعارف
انسانی جسم ایک پیچیدہ مشین ہے۔ اسے چلانے کے لیے ایندھن چاہیے۔ یہ ایندھن خوراک سے آتا ہے، اور جس عمل سے جسم اسے استعمال کرتا ہے اسے غذائیت کہتے ہیں۔ غذائیت محض کھانے کا نام نہیں — یہ جسم کی ہر سرگرمی کا محرک ہے۔
جب غذائیت مناسب ہو تو جسم بیماریوں سے لڑتا ہے، دماغ تیز کام کرتا ہے، اور زندگی بہتر گزرتی ہے۔ جب غذائیت کمزور ہو تو نتیجہ الٹا نکلتا ہے۔ یہ مضمون غذائیت کی بنیادی حقیقت، اس کے اجزا، فوائد اور پاکستانی تناظر میں اس کی اہمیت بیان کرتا ہے۔
بنیادی تصور
غذائیت وہ سائنسی عمل ہے جس میں جسم خوراک سے توانائی، نشوونما کا مواد اور بیماریوں سے لڑنے کی طاقت اخذ کرتا ہے۔ ماہرین نے غذائی اجزا کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلا گروہ میکرونیوٹرینٹس کا ہے — یعنی وہ اجزا جن کی جسم کو بڑی مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور چکنائی اس گروہ میں آتے ہیں۔ دوسرا گروہ مائیکرونیوٹرینٹس کا ہے۔ وٹامن اور معدنیات تھوڑی مقدار میں بھی بہت ضروری ہیں۔ آئرن، کیلشیم، وٹامن ڈی اور وٹامن سی اس کی مثالیں ہیں۔
پانی کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، مگر یہ غذائیت کا لازمی حصہ ہے۔ جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ ہر جسمانی عمل کے لیے پانی ناگزیر ہے۔
یہ کیسے کام کرتا ہے؟
خوراک منہ میں داخل ہوتی ہے تو ہضم کا عمل فوری شروع ہو جاتا ہے۔ لعاب دہن خوراک کو توڑتا ہے۔ معدہ اسے مزید ہضم کرتا ہے۔ چھوٹی آنت غذائی اجزا کو خون میں جذب کرتی ہے، اور خون انہیں جسم کے ہر حصے تک پہنچاتا ہے۔
پروٹین جسم کے خلیات بناتی اور ان کی مرمت کرتی ہے۔ کاربوہائیڈریٹ فوری توانائی دیتے ہیں۔ چکنائی توانائی ذخیرہ کرتی ہے اور دماغ کی نشوونما میں کردار ادا کرتی ہے۔ وٹامن اور معدنیات جسم کے کیمیائی عمل چلاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق متوازن غذا میں پھل، سبزیاں، سالم اناج، پروٹین اور صحت مند چکنائی شامل ہونی چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت کی متوازن غذا رہنمائی میں روزانہ کم از کم 400 گرام پھل اور سبزیاں کھانے کی سفارش موجود ہے۔
فوائد اور حدود
مناسب غذائیت کے فوائد وسیع ہیں۔ مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ذیابیطس اور بلڈ پریشر قابو میں رہتے ہیں۔ بچوں کی دماغی اور جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔ انسان زیادہ توانا اور فعال رہتا ہے۔
تاہم غذائیت کے حصول میں عملی حدود بھی ہیں۔ ہر شخص کی غذائی ضروریات مختلف ہوتی ہیں — عمر، جنس، صحت کی حالت اور جسمانی سرگرمی ان ضروریات کو بدلتی ہیں۔ سپلیمنٹس متوازن خوراک کا متبادل نہیں بن سکتے۔ صرف وٹامن کی گولیاں کھانے سے مکمل غذائیت ممکن نہیں۔
پاکستان میں اہمیت
پاکستان میں غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یونیسف کے اعداد کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد سے زیادہ بچے قد میں پسماندہ ہیں — یہ دائمی غذائی قلت کی واضح علامت ہے۔ یونیسف پاکستان کی غذائیت رپورٹ اس مسئلے کی گہرائی کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔
دیہی علاقوں میں متوازن خوراک تک رسائی محدود ہے۔ آئرن کی کمی سے خواتین میں خون کی کمی عام ہے۔ وٹامن ڈی کی قلت شہری اور دیہی دونوں آبادیوں میں پائی جاتی ہے۔ قومی غذائیت پروگرام چلائے جا رہے ہیں، مگر ابھی بہت کام باقی ہے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت اس بات پر زور دیتا ہے کہ غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے زراعت اور صحت کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ فاؤ کی غذائیت پالیسی میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے مخصوص سفارشات موجود ہیں۔
عام غلط فہمیاں
- چکنائی ہمیشہ نقصاندہ ہے: اومیگا 3 اور غیر سیر شدہ چکنائی دل اور دماغ کے لیے فائدہ مند ہے۔ اصل مسئلہ ٹرانس فیٹ اور ضرورت سے زیادہ سیر شدہ چکنائی کا ہے۔
- مہنگی خوراک ہی غذائیت دیتی ہے: دالیں، انڈے، سبزیاں اور موسمی پھل سستے ہونے کے باوجود بھرپور غذائیت رکھتے ہیں۔ قیمت اور غذائیت میں کوئی لازمی تعلق نہیں۔
- دبلا شخص غذائی قلت کا شکار نہیں ہو سکتا: کم وزن اور غذائی قلت ایک نہیں ہیں۔ نارمل وزن والا شخص بھی وٹامن یا معدنیات کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔
- سپلیمنٹس متوازن غذا کی جگہ لے سکتے ہیں: سپلیمنٹس صرف مخصوص کمی پوری کرتے ہیں۔ قدرتی خوراک میں ہزاروں ایسے اجزا ہوتے ہیں جو کسی گولی میں ممکن نہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
غذائیت کیا ہے؟
غذائیت وہ عمل ہے جس میں جسم خوراک سے توانائی، نشوونما کا مواد اور صحت برقرار رکھنے کے ضروری اجزا حاصل کرتا ہے۔ یہ انسانی زندگی اور صحت کی اصل بنیاد ہے۔
غذائیت کے بنیادی اجزا کون سے ہیں؟
پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، چکنائی، وٹامن، معدنیات اور پانی غذائیت کے چھ بنیادی اجزا ہیں۔ ہر جزو جسم میں الگ کام انجام دیتا ہے اور سب کا توازن ضروری ہے۔
غذائی قلت کی علامات کیا ہیں؟
تھکاوٹ، بالوں کا گرنا، جلد کی خرابی، بار بار بیمار پڑنا اور بچوں میں قد کا نہ بڑھنا غذائی قلت کی عام علامات ہیں۔ تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔
متوازن غذا کیسے حاصل کی جائے؟
روزانہ پھل، سبزیاں، سالم اناج، پروٹین اور پانی شامل کریں۔ تلی ہوئی اور پراسیس شدہ اشیا کم کریں۔ موسمی پھل سستے، آسان اور غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔
بچوں کے لیے غذائیت کیوں اہم ہے؟
بچپن میں دماغی اور جسمانی نشوونما تیز رفتار ہوتی ہے۔ اس دوران غذائی قلت مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔ زندگی کے پہلے دو سال غذائیت کے اثرات کے لحاظ سے سب سے اہم ہیں۔
پاکستان میں سب سے عام غذائی قلت کون سی ہے؟
پاکستان میں آئرن، وٹامن ڈی اور زنک کی قلت سب سے زیادہ عام ہے۔ خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور خون کی کمی ایک بڑا قومی مسئلہ ہے۔
کیا صرف سپلیمنٹس کافی ہیں؟
نہیں، سپلیمنٹس صرف مخصوص کمی پوری کرتے ہیں۔ قدرتی خوراک میں فائبر، اینٹی آکسیڈنٹ اور دیگر اجزا ہوتے ہیں جو کسی گولی میں نہیں ملتے۔ متوازن غذا ہمیشہ ناگزیر ہے۔