ایک نظر میں
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| موضوع کیا ہے | خون کی کمی یعنی اینیمیا ایک طبی حالت ہے جس میں خون کے سرخ خلیے یا ہیموگلوبن ضرورت سے کم ہو جاتے ہیں |
| کیوں اہم ہے | یہ دنیا کی سب سے عام غذائی و طبی کمزوری ہے جو ہر عمر اور جنس کو متاثر کرتی ہے |
| بنیادی تصور | ہیموگلوبن آکسیجن کو جسم کے خلیوں تک پہنچاتا ہے، اس کی کمی سے تمام اعضا متاثر ہوتے ہیں |
| عملی اثرات | پاکستان میں خواتین اور بچوں میں خون کی کمی ایک سنگین عوامی صحت مسئلہ ہے |
| اہم نکتہ | خون کی کمی کی کئی اقسام ہیں اور ہر قسم کا علاج مختلف ہوتا ہے، خود علاجی نقصاندہ ہو سکتی ہے |
تعارف
خون انسانی جسم کا وہ بنیادی مائع ہے جو آکسیجن، غذائی اجزا اور ہارمون کو جسم کے ہر حصے تک پہنچاتا ہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے خون میں سرخ خلیے اور ان کے اندر موجود ہیموگلوبن نامی پروٹین کا مناسب مقدار میں ہونا ضروری ہے۔ جب یہ مقدار کسی وجہ سے ضرورت سے کم ہو جائے تو اس حالت کو طب میں اینیمیا یعنی خون کی کمی کہا جاتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب سے زیادہ افراد کسی نہ کسی درجے میں خون کی کمی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں یہ مسئلہ خاص طور پر حاملہ خواتین، نوعمر لڑکیوں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بہت عام ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 50 فیصد حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔
خون کی کمی کو صرف کمزوری یا تھکاوٹ سمجھ کر نظرانداز کرنا غلط ہے۔ یہ ایک طبی حالت ہے جو اگر طویل عرصے تک غیر علاج شدہ رہے تو دل، دماغ، اور دیگر اعضا پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس مضمون میں خون کی کمی کی طبی تعریف، اقسام، علامات، اور صحت پر اثرات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
خون کی کمی کیا ہے؟ بنیادی تصور کی وضاحت
خون میں تین بنیادی اجزا ہوتے ہیں: سرخ خلیے، سفید خلیے اور پلیٹ لیٹس۔ سرخ خلیوں کے اندر ہیموگلوبن نامی پروٹین ہوتی ہے جو آکسیجن کو پھیپھڑوں سے لے کر جسم کے باقی حصوں تک پہنچاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو واپس لاتی ہے۔ جب سرخ خلیوں کی تعداد یا ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہو جائے تو جسم کو کافی آکسیجن نہیں ملتی اور خون کی کمی کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
ہیموگلوبن کی معمول کی سطح
| زمرہ | معمول کی ہیموگلوبن سطح (گرام فی ڈیسی لیٹر) |
|---|---|
| بالغ مرد | 13.5 – 17.5 |
| بالغ خواتین | 12.0 – 15.5 |
| حاملہ خواتین | 11.0 اور اس سے زیادہ |
| بچے (6 ماہ تا 5 سال) | 11.0 اور اس سے زیادہ |
| بچے (5 تا 11 سال) | 11.5 اور اس سے زیادہ |
| نوعمر لڑکے | 13.0 اور اس سے زیادہ |
| نوعمر لڑکیاں | 12.0 اور اس سے زیادہ |
ان حدوں سے کم ہیموگلوبن سطح کو خون کی کمی تصور کیا جاتا ہے، تاہم طبیب مریض کی عمر، جنس اور طبی تاریخ کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔
خون کی کمی کی اقسام
خون کی کمی ایک واحد بیماری نہیں بلکہ کئی مختلف طبی حالتوں کا مجموعہ ہے۔ ہر قسم کی وجہ اور علاج مختلف ہوتا ہے۔
اقسام اور ان کی بنیادی وجوہات
| قسم | بنیادی وجہ | عام متاثرین |
|---|---|---|
| آئرن کی کمی سے خون کی کمی | آئرن کا ناکافی استعمال یا جذب | خواتین، بچے، حاملہ خواتین |
| وٹامن بی 12 کی کمی | غذا میں کمی یا جذب کا مسئلہ | 채채菜 سبزی خور، بوڑھے افراد |
| فولک ایسڈ کی کمی | غیر متوازن غذا، حمل | نوجوان خواتین، حاملہ خواتین |
| تھیلیسیمیا | موروثی جینیاتی بیماری | جنوبی ایشیائی آبادی |
| سیکل سیل اینیمیا | جینیاتی نقص | افریقی اور جنوبی ایشیائی نسل |
| اپلاسٹک اینیمیا | ہڈی کا گودا ناکارہ ہو جانا | کسی بھی عمر میں |
| دائمی بیماری سے اینیمیا | گردے، کینسر، سوزش کی بیماریاں | دائمی مریض |
| ہیمولیٹک اینیمیا | سرخ خلیوں کا قبل از وقت ٹوٹنا | متعدد وجوہات |
پاکستان میں سب سے عام قسم آئرن کی کمی سے پیدا ہونے والی خون کی کمی ہے، جس کے بعد تھیلیسیمیا ایک خاص اور سنگین مسئلہ ہے۔
خون کی کمی کی علامات
علامات کا مرحلہ وار ظہور
خون کی کمی کی علامات اس کی شدت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ ابتدا میں علامات اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ اکثر افراد انہیں محض تھکاوٹ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ہلکی خون کی کمی کی علامات: معمول کے کاموں میں تھکاوٹ، معمولی سر درد، اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہلکی خون کی کمی کی ابتدائی نشانیاں ہیں۔ اس مرحلے پر اکثر افراد کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی طبی مسئلے کا شکار ہیں۔
درمیانی خون کی کمی کی علامات: تھکاوٹ زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے اور معمولی کام کرنے پر بھی سانس پھولنے لگتا ہے۔ چہرہ اور ہونٹ پیلے پڑنے لگتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہونے لگتی ہے، اور چکر آنے کی شکایت ہوتی ہے۔
شدید خون کی کمی کی علامات: آرام کی حالت میں بھی سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بے ہوشی، ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا رہنا، اور دل کی غیر معمولی دھڑکن شدید خون کی کمی کی علامات ہیں جن پر فوری طبی توجہ ضروری ہے۔
علامات کا تقابلی جائزہ
| علامت | ہلکی کمی | درمیانی کمی | شدید کمی |
|---|---|---|---|
| تھکاوٹ | کبھی کبھار | اکثر | مستقل |
| سانس پھولنا | صرف محنت پر | معمولی کام پر | آرام میں بھی |
| چہرے کا رنگ | قدرے پیلا | واضح پیلا | بہت پیلا یا زردی |
| دل کی دھڑکن | معمول | قدرے تیز | بہت تیز یا بے ترتیب |
| چکر | شاذ | اکثر | بار بار یا بے ہوشی |
| ہاتھ پاؤں | معمول | ہلکی ٹھنڈک | مستقل سرد |
| ذہنی کیفیت | معمول | توجہ کم | الجھن، یادداشت کمزور |
خاص علامات جو خون کی کمی کی نشاندہی کرتی ہیں
کچھ علامات خاص طور پر آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی میں نظر آتی ہیں جو عام طور پر لوگوں کو حیران کرتی ہیں۔ مٹی، چاک، برف یا غیر غذائی اشیا کھانے کی خواہش جسے طب میں پیکا کہا جاتا ہے، آئرن کی کمی کی ایک مشہور علامت ہے۔ ناخنوں کا چمچ کی طرح اندر کو مڑ جانا، جسے کوئیلونیشیا کہتے ہیں، بھی آئرن کی کمی کی علامت ہے۔ زبان کا ہموار اور سرخ ہو جانا وٹامن بی 12 کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
خون کی کمی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
۱۔ قلبی نظام پر اثر
جب خون میں آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کم ہو جائے تو دل اسے پورا کرنے کے لیے زیادہ تیزی سے دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ اضافی کام وقت کے ساتھ دل کی پٹھوں کو تھکا دیتا ہے۔ طویل عرصے تک شدید خون کی کمی دل کے حجم میں اضافے اور دل کی ناکامی جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ تھیلیسیمیا جیسی دائمی اینیمیا میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
۲۔ دماغ اور اعصابی نظام پر اثر
دماغ جسم کا سب سے زیادہ آکسیجن استعمال کرنے والا عضو ہے۔ خون کی کمی میں دماغ کو ضرورت سے کم آکسیجن ملتی ہے جس سے توجہ کا مرکوز رہنا مشکل ہو جاتا ہے، یادداشت متاثر ہوتی ہے، اور سیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ بچوں میں یہ اثرات خاص طور پر تشویشناک ہیں کیونکہ دماغ کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ وٹامن بی 12 کی کمی سے ہونے والی اینیمیا میں اعصاب کو براہِ راست نقصان پہنچتا ہے جس سے ہاتھ پاؤں میں جھنجھناہٹ یا سن ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔
۳۔ بچوں کی نشوونما پر اثر
بچوں میں خون کی کمی ذہنی اور جسمانی نشوونما دونوں کو روکتی ہے۔ آئرن دماغ کے اعصابی رابطوں یعنی نیورل کنیکشنز کی تعمیر میں ضروری کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ابتدائی بچپن میں آئرن کی کمی بچے کی مستقبل کی تعلیمی کارکردگی اور ذہانت کو مستقل طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ جسمانی طور پر بچہ قد و کاٹھ میں کمزور رہتا ہے اور مدافعتی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
۴۔ حمل اور زچگی پر اثر
حاملہ خواتین میں خون کی کمی ایک دوہرا خطرہ ہے۔ ماں کی صحت متاثر ہوتی ہے اور ساتھ ہی بچے کی نشوونما پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ خون کی شدید کمی قبل از وقت پیدائش، پیدائش کے وقت کم وزن، اور زچگی کے دوران زیادہ خون بہنے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ پاکستان میں زچگی کی اموات کی ایک اہم وجہ خون کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔
۵۔ مدافعتی نظام پر اثر
آئرن اور دیگر غذائی اجزا مدافعتی خلیوں کی تیاری اور کام کاج کے لیے ضروری ہیں۔ خون کی کمی میں مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ معمولی زکام یا بخار بھی خون کی کمی کے شکار افراد میں زیادہ دیر تک رہتا ہے۔
۶۔ پھیپھڑوں اور سانس کے نظام پر اثر
خون میں آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پھیپھڑے زیادہ تیزی سے کام کرتے ہیں۔ اس سے سانس پھولنے کی شکایت ہوتی ہے اور معمولی جسمانی محنت بھی بوجھ لگتی ہے۔ پہلے سے دمہ یا پھیپھڑوں کی کوئی بیماری ہو تو خون کی کمی اسے مزید خراب کر دیتی ہے۔
۷۔ ذہنی صحت پر اثر
خون کی کمی اور ذہنی صحت کا گہرا تعلق ہے۔ مستقل تھکاوٹ، کمزوری اور جسمانی بے آرامی ڈپریشن اور چڑچڑاپن کو بڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان خواتین جو بیک وقت گھریلو ذمہ داریاں اور خون کی کمی کا بوجھ اٹھاتی ہیں، ان میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔
۸۔ کام اور پیداواری صلاحیت پر اثر
خون کی کمی کے شکار بالغ افراد کی کام کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہ محض ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی نقصان بھی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹوں کے مطابق خون کی کمی افراد کی پیداواری صلاحیت کو 10 سے 20 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔
پاکستان میں خون کی کمی کی صورتحال
پاکستان میں خون کی کمی ایک سنگین عوامی صحت مسئلہ ہے جو اقتصادی پسماندگی، غذائی ناہمواری اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان میں 5 سال سے کم عمر تقریباً 53 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار ہیں، اور 15 سے 49 سال کی تقریباً 52 فیصد خواتین اس سے متاثر ہیں۔
پاکستان میں تھیلیسیمیا بھی ایک خاص مسئلہ ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 5 سے 6 ہزار تھیلیسیمیا میجر کے بچے پیدا ہوتے ہیں جنہیں زندگی بھر خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادیوں میں رشتہ داروں میں شادی کا رواج تھیلیسیمیا کے پھیلاؤ کو بڑھاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں غذائی قلت، کئی کئی بار حمل، اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی خون کی کمی کو مزید گہرا بناتی ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں میں ملیریا بھی خون کی کمی کا ایک سبب ہے کیونکہ ملیریا کا پرجیوی سرخ خلیوں کو تباہ کرتا ہے۔
صحت کے شعبے میں خون کی کمی کے لیے قومی سطح کے پروگرام موجود ہیں، خاص طور پر حاملہ خواتین اور بچوں کو آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹ دینے کے سرکاری منصوبے چلائے جاتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ ابھی تک پوری آبادی تک نہیں پہنچ پایا۔
خون کی کمی کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
خون کی کمی کی تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں:
- مکمل خون کا شمار (CBC): یہ سب سے بنیادی ٹیسٹ ہے جو ہیموگلوبن، سرخ خلیوں کی تعداد اور ان کی ساخت بتاتا ہے۔
- سیرم آئرن اور فیریٹن: جسم میں آئرن کی مقدار اور ذخیرے کا اندازہ لگانے کے لیے۔
- وٹامن بی 12 اور فولک ایسڈ کی سطح: اگر سرخ خلیے بڑے ہوں تو یہ ٹیسٹ ضروری ہے۔
- ریٹیکیولوسائٹ کاؤنٹ: یہ بتاتا ہے کہ ہڈی کا گودا نئے سرخ خلیے کتنی تیزی سے بنا رہا ہے۔
- پیریفرل اسمیئر: خون کے خلیوں کی ساخت کا خوردبینی جائزہ لینے کے لیے۔
- ہیموگلوبن الیکٹروفوریسس: تھیلیسیمیا یا سیکل سیل کی تشخیص کے لیے خاص ٹیسٹ۔
طبیب ان ٹیسٹوں کے نتائج اور مریض کی طبی تاریخ کو دیکھ کر خون کی کمی کی قسم اور علاج کا فیصلہ کرتا ہے۔
مرحلہ وار: خون کی کمی سے بچاؤ کے عملی اقدامات
- آئرن سے بھرپور غذا کھائیں: سرخ گوشت، مرغی، مچھلی، دالیں، پالک اور چقندر آئرن کے اہم ذرائع ہیں۔
- وٹامن سی کے ساتھ آئرن لیں: لیموں، آملہ یا ٹماٹر آئرن کے جذب کو بڑھاتے ہیں۔
- چائے اور کافی کا استعمال کھانے کے ساتھ نہ کریں: ان میں موجود ٹینن آئرن کے جذب کو روکتا ہے۔
- حاملہ خواتین فولک ایسڈ اور آئرن کی گولیاں ڈاکٹر کی ہدایت پر لیں: حمل سے پہلے اور حمل کے دوران یہ ضروری ہے۔
- بچوں کو چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلائیں: پھر آئرن سے بھرپور تکمیلی خوراک شروع کریں۔
- باقاعدگی سے خون کا ٹیسٹ کروائیں: خاص طور پر خواتین، بچے، اور دائمی بیماروں کو سالانہ جانچ کروانی چاہیے۔
- تھیلیسیمیا کے خاندانوں میں شادی سے پہلے اسکریننگ کروائیں: یہ ایک اہم احتیاطی قدم ہے۔
- ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر آئرن سپلیمنٹ شروع نہ کریں: زیادہ آئرن بھی نقصاندہ ہو سکتا ہے۔
عام غلط فہمیاں
غلط فہمی نمبر ایک: خون کی کمی صرف خواتین کا مسئلہ ہے
یہ تاثر درست نہیں ہے۔ مرد بھی خون کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر آنتوں میں خون کی رساؤ ہو، گردے کی بیماری ہو یا تھیلیسیمیا جیسی موروثی بیماری ہو۔ البتہ خواتین میں ماہواری کی وجہ سے آئرن کا اضافی نقصان ہوتا ہے جس سے وہ زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
غلط فہمی نمبر دو: چقندر یا انار پینے سے خون کی کمی فوراً دور ہو جاتی ہے
چقندر اور انار آئرن کے قدرتی ذرائع ہیں لیکن ان سے ملنے والا آئرن کم مقدار میں ہوتا ہے۔ شدید خون کی کمی میں صرف غذا کافی نہیں ہوتی اور طبی علاج ضروری ہوتا ہے۔ انہیں غذا کے طور پر استعمال کرنا مفید ہے لیکن انہیں علاج سمجھنا غلط ہے۔
غلط فہمی نمبر تین: اگر ٹھیک محسوس ہو رہا ہے تو خون کی کمی نہیں ہے
خون کی کمی بتدریج بڑھتی ہے اور جسم اس کے ساتھ ڈھل جاتا ہے۔ بہت سے افراد ہلکی سے درمیانی خون کی کمی میں بھی خود کو ٹھیک سمجھتے رہتے ہیں کیونکہ وہ تھکاوٹ کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ باقاعدہ خون کے ٹیسٹ ہی اصل صورتحال بتاتے ہیں۔
غلط فہمی نمبر چار: آئرن کی گولیاں جتنی زیادہ لی جائیں اتنا بہتر ہے
آئرن کی زیادہ مقدار جسم میں جمع ہو کر جگر، دل اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسے آئرن اوورلوڈ یا ہیموکروماٹوسس کہا جاتا ہے۔ آئرن سپلیمنٹ ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت اور ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق لینی چاہیے۔
غلط فہمی نمبر پانچ: تھیلیسیمیا کا کوئی علاج نہیں
تھیلیسیمیا مائنر یعنی کیریئر حالت عموماً علامات پیدا نہیں کرتی۔ تھیلیسیمیا میجر کا علاج باقاعدہ خون کی منتقلی، آئرن نکالنے کی ادویات اور بون میرو ٹرانسپلانٹ سے کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تشخیص اور صحیح علاج سے مریض کافی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: خون کی کمی میں کیا کھانا چاہیے؟
آئرن کے لیے سرخ گوشت، کلیجی، مسور کی دال، پالک، اور انجیر مفید ہیں۔ وٹامن سی کے ساتھ ان کا استعمال آئرن کا جذب بڑھاتا ہے۔
سوال: کیا خون کی کمی سے بال جھڑتے ہیں؟
جی ہاں، خاص طور پر آئرن کی کمی میں بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں اور بال زیادہ جھڑنے لگتے ہیں۔ آئرن ٹھیک ہو جانے پر بال دوبارہ گھنے ہونے لگتے ہیں۔
سوال: کیا بچوں میں خون کی کمی کا اثر تعلیم پر پڑتا ہے؟
ہاں، تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خون کی کمی بچوں میں توجہ، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ ابتدائی علاج سے ان اثرات کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
سوال: تھیلیسیمیا سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
شادی سے پہلے تھیلیسیمیا اسکریننگ سب سے مؤثر احتیاط ہے۔ اگر دونوں میاں بیوی کیریئر ہوں تو بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا خطرہ 25 فیصد ہوتا ہے۔
سوال: ڈاکٹر کے پاس کب جانا ضروری ہے؟
اگر دو ہفتے سے زیادہ مستقل تھکاوٹ، سانس پھولنا، چکر آنا یا چہرے کا پیلاپن ہو تو فوری خون کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق باقاعدہ جانچ کروانی چاہیے۔
سوال: کیا خون کی کمی مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟
آئرن، وٹامن بی 12 یا فولک ایسڈ کی کمی سے ہونے والی اینیمیا مناسب علاج سے مکمل ٹھیک ہو سکتی ہے۔ تھیلیسیمیا جیسی موروثی اقسام کا دائمی انتظام کرنا پڑتا ہے۔
خلاصہ
خون کی کمی محض کمزوری یا تھکاوٹ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ طبی حالت ہے جو دماغ، دل، پھیپھڑوں، مدافعتی نظام اور بچوں کی نشوونما کو گہرا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان میں اس کی بہت زیادہ شرح، خاص طور پر خواتین اور بچوں میں، ایک قومی صحت ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ باقاعدہ خون کا ٹیسٹ، متوازن غذا، اور ڈاکٹر کی رہنمائی میں مناسب علاج سے اس حالت پر قابو پانا ممکن ہے۔