دمہ — ایک نظر میں
پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد دمہ (Asthma) کی بیماری میں مبتلا ہیں اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ دمہ سانس کی نالیوں کی ایک دائمی سوزش ہے جس میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے اور سینے میں جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ درست طبی رہنمائی اور احتیاط سے دمہ کے مریض مکمل متحرک اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
- دمہ سانس کی نالیوں کی دائمی سوزش کی بیماری ہے
- علامات میں سانس پھولنا، کھانسی اور سینے میں جکڑن شامل ہیں
- ماحولیاتی آلودگی، الرجی اور جینیاتی عوامل دمہ کا خطرہ بڑھاتے ہیں
- Spirometry اور Peak Flow Test سے دمہ کی تشخیص ہوتی ہے
- باقاعدہ علاج اور احتیاط سے دمہ کو مکمل قابو میں رکھا جا سکتا ہے
دمہ کیا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟
دمہ (Asthma) ایک دائمی سانس کی بیماری ہے جس میں پھیپھڑوں کی باریک نالیاں سوج کر تنگ ہو جاتی ہیں اور سانس لینا مشکل بنا دیتی ہیں۔ ان نالیوں میں بلغم بھی زیادہ بنتا ہے جو سانس کی راہ کو مزید بند کر دیتا ہے۔ پاکستانی آبادی میں الرجک دمہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے جو مٹی، دھول اور پولن سے بڑھتا ہے۔
دمہ مختلف عمر کے افراد کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتا ہے۔ بچوں میں دمہ اکثر رات کو کھانسی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ بالغوں میں ورزش کے بعد سانس پھولنا زیادہ عام ہے۔ بیماری کی قسم جاننا علاج کو بہتر اور مؤثر بناتا ہے۔
| قسم | خصوصیت | کون متاثر |
|---|---|---|
| الرجک دمہ | مٹی، پولن، جانوروں کے بال محرک ہیں | بچے اور نوجوان |
| غیر الرجک دمہ | سردی، ورزش، تناؤ سے بڑھتا ہے | بالغ افراد |
| ورزش سے متحرک دمہ | ورزش کے دوران یا فوراً بعد | کھلاڑی اور نوجوان |
| پیشہ ورانہ دمہ | کام کی جگہ کی دھول اور کیمیکل | صنعتی اور فیکٹری کارکن |
| شدید (Severe) دمہ | عام ادویات سے قابو نہیں آتا | کسی بھی عمر میں |
دمہ کی وجوہات اور خطرے کے عوامل
دمہ کی وجوہات دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں — وہ عوامل جنہیں بدلا جا سکتا ہے اور وہ جنہیں نہیں بدلا جا سکتا۔ قابل تبدیل عوامل کو کنٹرول کر کے دمہ کا خطرہ نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی طرز زندگی میں کئی ایسے عوامل موجود ہیں جو دمہ کو بڑھاتے ہیں۔
قابل تبدیل خطرے کے عوامل:
- سگریٹ کا دھواں — خود پینا یا گھر میں غیر فعال سگریٹ نوشی
- گھر میں مٹی کے ذرات (Dust Mites) — گدوں اور پردوں میں رہتے ہیں
- گھر میں نمی اور پھپھوندی (Mold)
- پالتو جانوروں کے بال اور خشکی
- فضائی آلودگی اور گاڑیوں کا دھواں
- صنعتی کیمیکلز اور دھول
- موٹاپا — خاص طور پر بچوں میں دمہ کا خطرہ بڑھاتا ہے
ناقابل تبدیل خطرے کے عوامل:
- خاندانی تاریخ — والدین میں دمہ ہو تو بچوں میں خطرہ دو گنا ہوتا ہے
- بچپن میں سانس کی بار بار بیماریاں
- جنس — بچپن میں لڑکوں میں زیادہ، بلوغت کے بعد خواتین میں زیادہ
- قبل از وقت پیدائش اور کم وزن
پاکستان میں خاص عوامل: لاہور، کراچی اور فیصل آباد میں فضائی آلودگی کی بلند سطح دمہ کے مریضوں کے لیے خاص خطرہ ہے۔ سردیوں میں اسموگ اور دھند سانس کی نالیوں کو شدید متاثر کرتی ہے جس سے دمہ کے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ دیہات میں لکڑی اور مٹی کے تیل کا جلانا بھی دمہ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دمہ کی علامات اور نشانیاں
دمہ کی علامات ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں اور کچھ علامات رات کو یا صبح سویرے زیادہ ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض مریضوں میں ہلکی علامات ہوتی ہیں جو وقتاً فوقتاً آتی ہیں جبکہ دوسروں میں یہ مسلسل رہتی ہیں۔ علامات کو جلدی پہچاننا علاج کو آسان اور بروقت بناتا ہے۔
ابتدائی علامات:
- رات یا صبح سویرے بار بار کھانسی آنا
- سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز (Wheezing)
- سینے میں ہلکی جکڑن یا بھاری پن
- ورزش یا چلنے کے بعد سانس پھولنا
- نزلہ زکام کے بعد سانس کی تکلیف جو ہفتوں تک رہے
سنگین علامات — فوری ڈاکٹر سے ملیں:
اگر آرام کے باوجود سانس لینا انتہائی مشکل ہو تو فوری ہسپتال جائیں۔ ہونٹوں یا ناخنوں کا نیلا پڑنا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ بات کرنے میں دقت اور چکر آنا شدید دمہ کے حملے کی علامت ہے۔
بچوں میں دمہ کی علامات
بچوں میں دمہ کی علامات بالغوں سے مختلف اور پہچاننا مشکل ہوتی ہیں۔ بار بار کھانسی، رات کو بے چینی اور کھیلتے وقت جلدی تھکنا دمہ کی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ والدین کو ان علامات پر فوری بچوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بزرگوں میں دمہ کی علامات
بزرگوں میں دمہ کو اکثر دل کی بیماری یا بڑھاپے کی کمزوری سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ سانس پھولنا، چلنے میں تکلیف اور رات کو کھانسی دمہ کی علامات ہو سکتی ہیں۔ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو سالانہ سانس کا معائنہ لازمی کروانا چاہیے۔
دمہ کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
دمہ کی تشخیص صرف علامات دیکھ کر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مخصوص ٹیسٹ ضروری ہیں۔ Spirometry سب سے اہم تشخیصی ٹیسٹ ہے جو پھیپھڑوں کی ہوا خارج کرنے کی صلاحیت ناپتا ہے۔ درست تشخیص کے لیے سینے کے ماہر ڈاکٹر (Chest Specialist) سے ملنا ضروری ہے۔
| ٹیسٹ کا نام | کیا جانچتا ہے | معمول کی حد | پاکستان میں قیمت (PKR) |
|---|---|---|---|
| Spirometry | پھیپھڑوں کی ہوا کی صلاحیت | FEV1 ≥ 80% | 1,500 – 3,000 |
| Peak Flow Meter | سانس کی رفتار | عمر اور جنس کے مطابق | 500 – 1,000 |
| Chest X-ray | پھیپھڑوں کی ساخت | معمول کی ساخت | 1,000 – 2,000 |
| Allergy Skin Test | الرجی کے محرکات | منفی نتیجہ | 3,000 – 8,000 |
| Bronchodilator Test | دوا سے پھیپھڑوں میں بہتری | 12% یا زیادہ بہتری | Spirometry میں شامل |
بچوں میں دمہ کی تشخیص کے لیے Pediatric Pulmonologist سے رجوع کریں۔ سرکاری اسپتالوں جیسے PIMS (اسلام آباد)، Mayo Hospital (لاہور) اور Jinnah Hospital (کراچی) میں یہ ٹیسٹ کم قیمت پر دستیاب ہیں۔
دمہ کا علاج — عمومی طبی طریقے
دمہ کا علاج ڈاکٹر کی ہدایت پر منحصر ہے اور بیماری کی شدت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ علاج کے دو بنیادی طریقے ہیں: فوری ریلیف (Reliever) دوائیں جو حملے کے وقت فوری آرام دیتی ہیں، اور طویل مدتی کنٹرول (Controller) دوائیں جو روزانہ استعمال ہوتی ہیں۔ انہیلر (Inhaler) دمہ کا سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ علاج ہے کیونکہ دوا سیدھی پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے۔
2024–2026 میں دمہ کے علاج میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ Biologic Therapies شدید دمہ کے مریضوں کے لیے نئی امید ہیں جو مدافعتی نظام کو درست کرتی ہیں۔ Smart Inhalers جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جو دوا کے استعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور ڈاکٹر کو بھیجتے ہیں۔
پاکستان میں سرکاری اسپتالوں کے ذریعے بنیادی دمہ کی ادویات کم قیمت یا مفت دستیاب ہیں۔ National Programme for Prevention and Control of NCDs کے تحت صوبائی سطح پر دمہ کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ علاج ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر شروع یا بند نہ کریں۔
دمہ میں طرز زندگی اور غذائی احتیاط
دمہ کے مریضوں کے لیے صحیح غذا اور طرز زندگی علاج کا لازمی حصہ ہے۔ پاکستانی روایتی غذاؤں میں سے کئی چیزیں دمہ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ غذائی احتیاط اور ورزش مل کر سانس کی نالیوں کو مضبوط بناتے ہیں۔
فائدہ مند غذائیں (پاکستانی تناظر میں):
- ادرک والی چائے — سانس کی نالیوں کی سوزش کم کرتی ہے
- شہد — قدرتی طور پر کھانسی میں آرام دیتا ہے
- ہلدی والا دودھ — Anti-inflammatory خصوصیات رکھتا ہے
- مچھلی — Omega-3 سانس کی نالیوں کے لیے مفید ہے
- تازہ پھل اور سبزیاں — Antioxidants سے بھرپور
پرہیزی غذائیں:
- سلفائٹ والی غذائیں جیسے اچار اور پیکٹ بند چپس
- بہت ٹھنڈا پانی یا آئس کریم — سانس کی نالیاں سکڑتی ہیں
- مونگ پھلی — اگر الرجی ہو
- بہت مسالہ دار کھانا جو کھانسی بڑھائے
تیراکی دمہ کے مریضوں کے لیے سب سے بہتر ورزش ہے کیونکہ نم ہوا سانس کی نالیوں کو خشک نہیں کرتی۔ پیدل چلنا اور یوگا بھی بہت مفید ہیں اگر ڈاکٹر سے اجازت لے کر کیے جائیں۔ دھند یا اسموگ والے دنوں میں باہر ورزش سے مکمل پرہیز کریں۔
دمہ کی پیچیدگیاں اور طویل مدتی خطرات
دمہ کا علاج نہ کروانے یا غفلت برتنے سے سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ پیچیدگیاں صحت کو طویل مدت کے لیے متاثر کر سکتی ہیں۔ بروقت علاج ان تمام پیچیدگیوں سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔
قلیل مدتی پیچیدگیاں:
- شدید دمہ کا حملہ (Status Asthmaticus) — جان لیوا ہو سکتا ہے
- نیند میں مسلسل خلل اور تھکاوٹ
- اسکول یا کام سے بار بار غیر حاضری
- ذہنی تناؤ اور اضطراب
طویل مدتی پیچیدگیاں:
- Airway Remodeling — سانس کی نالیوں میں مستقل تبدیلی
- COPD کا خطرہ — خاص طور پر سگریٹ نوشی کے ساتھ
- پھیپھڑوں کی مستقل کمزوری
- ڈپریشن اور معاشرتی تنہائی
کن حالات میں پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں: علاج نہ کروانے، انہیلر غلط طریقے سے استعمال کرنے اور دمہ کے محرکات سے نہ بچنے کی صورت میں پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
دمہ سے بچاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر
دمہ کے محرکات سے بچنا علاج جتنا ہی ضروری ہے۔ گھر اور کام کی جگہ کو صاف اور آلودگی سے پاک رکھنا دمہ کے حملوں کو کم کرتا ہے۔ پاکستانی ماحول کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔
- گھر میں قالین کم رکھیں اور باقاعدہ صفائی کریں
- گدوں اور تکیوں پر Dust Mite Proof کور لگائیں
- گھر میں نمی 50% سے کم رکھیں — Air Dehumidifier استعمال کریں
- پالتو جانور سونے کے کمرے سے دور رکھیں
- سگریٹ کے دھوئیں سے مکمل پرہیز — گھر میں سگریٹ نوشی بالکل بند کریں
- آلودگی والے دنوں میں باہر N95 ماسک لازمی پہنیں
- سردیوں میں باہر جاتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں
- فلو اور نمونیے کی ویکسین سالانہ لگوائیں
اسکریننگ کی سفارش: جن افراد کی خاندانی تاریخ میں دمہ ہو انہیں بچپن سے ہی سانس کا معائنہ کروانا چاہیے۔ 40 سال سے زیادہ عمر میں سالانہ Spirometry کروانا ضروری ہے۔ الرجی کے مریضوں کو ہر تین سال بعد الرجی ٹیسٹ کروانا چاہیے۔
دمہ سے متعلق خاص احتیاط اور عام غلط فہمیاں
حاملہ خواتین میں دمہ
حمل میں دمہ کا علاج بند کرنا ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کی زیرنگرانی انہیلر کا استعمال حمل میں محفوظ سمجھا جاتا ہے اور GINA 2024 رہنما اصول بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ حاملہ خاتون کو ہر سہ ماہی میں Chest Specialist سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
بچوں میں دمہ — والدین کے لیے ہدایت
بچوں کو انہیلر استعمال کرنے کا صحیح طریقہ سکھانا اور Spacer Device دلوانا بہت ضروری ہے۔ اسکول کو بچے کی بیماری کے بارے میں آگاہ کریں اور Emergency Action Plan بنائیں۔ بچپن میں دمہ کا علاج نہ کروانا پھیپھڑوں کی مستقل کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔
بزرگ افراد میں دمہ کے خاص خطرات
بزرگوں میں دمہ کی ادویات دل اور گردوں پر اثر ڈال سکتی ہیں اس لیے باقاعدہ معائنہ ضروری ہے۔ بزرگ افراد کو انہیلر کے صحیح استعمال میں مشکل ہو سکتی ہے — اس کے لیے Spacer Device بہترین حل ہے۔ 65 سال سے زیادہ عمر کے دمہ کے مریضوں کو ہر سال فلو اور نمونیے کی ویکسین لازمی لگوانی چاہیے۔
دمہ کے بارے میں 5 عام غلط فہمیاں
غلط فہمی 1: “انہیلر سے عادت پڑ جاتی ہے” — انہیلر مکمل محفوظ ہے اور اس میں عادت پڑنے والا کوئی جزو نہیں ہوتا۔ غلط فہمی 2: “دمہ صرف بچوں کو ہوتا ہے” — دمہ کسی بھی عمر میں پہلی بار ہو سکتا ہے۔ غلط فہمی 3: “ورزش دمہ میں نقصاندہ ہے” — ڈاکٹر کی ہدایت پر باقاعدہ ورزش پھیپھڑوں کو مضبوط بناتی ہے۔ غلط فہمی 4: “دیسی علاج سے دمہ ٹھیک ہو جاتا ہے” — ابھی تک کوئی دیسی علاج سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوا۔ غلط فہمی 5: “علامات ختم ہوں تو دوا بند کر دیں” — ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر دوا بند کرنا شدید حملے کا سبب بنتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں دمہ کا stigma اور حقیقت
پاکستان میں دمہ کو بعض اوقات “کمزوری” یا “کم مزاجی” سمجھا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ دمہ ایک سائنسی بیماری ہے جو سانس کی نالیوں کی سوزش سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں مریض کی کوئی غلطی نہیں۔ دمہ کے مریض انہیلر کے ساتھ تعلیم، کھیل اور کام — زندگی کے تمام شعبوں میں بھرپور حصہ لے سکتے ہیں۔
دمہ کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا دمہ مستقل بیماری ہے یا ٹھیک ہو سکتا ہے؟
دمہ ایک دائمی بیماری ہے لیکن صحیح علاج سے اسے مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے بچوں میں بلوغت کے بعد دمہ کی علامات خود بخود کم یا ختم ہو جاتی ہیں۔ بالغوں میں باقاعدہ علاج سے دمہ کا حملہ روکنا ممکن ہے۔
کیا بچوں کو انہیلر دینا محفوظ ہے؟
ڈاکٹر کی ہدایت پر بچوں کو انہیلر دینا مکمل محفوظ اور ضروری ہے۔ Spacer Device کے ساتھ انہیلر بچوں کے لیے اور بھی آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔ علاج نہ کروانا انہیلر سے کہیں زیادہ نقصاندہ ہے۔
دمہ اور سردی میں کیا تعلق ہے؟
سرد ہوا سانس کی نالیوں کو سکیڑتی ہے اور دمہ کا حملہ پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان میں سردیوں کے موسم اور اسموگ کے دوران دمہ کے مریضوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔ باہر جاتے وقت منہ اور ناک ڈھانپنا سردی کے اثر کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔
کیا دمہ موروثی بیماری ہے؟
جینیاتی عوامل دمہ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ لازمی نہیں کہ والدین سے بچوں کو دمہ ہو۔ ماحولیاتی عوامل اتنے ہی اہم ہیں جتنے جینیاتی عوامل۔ خاندانی تاریخ ہو تو بچوں کی باقاعدہ جانچ کروانا ضروری ہے۔
پاکستان میں دمہ کا مفت علاج کہاں ملتا ہے؟
PIMS اسلام آباد، Mayo Hospital لاہور اور Jinnah Hospital کراچی میں دمہ کا مفت یا کم قیمت علاج دستیاب ہے۔ National Programme for Prevention and Control of NCDs کے تحت صوبائی سطح پر بنیادی ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ Rural Health Centers میں بھی بنیادی دمہ کی ادویات دستیاب ہوتی ہیں۔
اسموگ میں دمہ کے مریض کیا کریں؟
آلودگی والے دنوں میں گھر میں رہیں اور کھڑکیاں بند رکھیں۔ باہر جانا ضروری ہو تو N95 ماسک لازمی پہنیں کیونکہ عام surgical ماسک کافی نہیں۔ گھر میں Air Purifier لگانا دمہ کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
انہیلر کتنے عرصے تک استعمال کرنا ہے؟
انہیلر کا استعمال بیماری کی شدت اور ڈاکٹر کی ہدایت پر منحصر ہے۔ علامات ختم ہونے پر بھی اپنے آپ انہیلر بند نہ کریں۔ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر علاج روکنا شدید دمہ کا حملہ پیدا کر سکتا ہے۔
دمہ اور ملتی جلتی بیماریوں کا تقابل
دمہ کی علامات کئی دوسری بیماریوں سے ملتی ہیں جس سے تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔ درست تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے ملنا اور ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔ ذیل میں دمہ اور ملتی جلتی بیماریوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔
| پہلو | دمہ (Asthma) | COPD | نزلہ / زکام |
|---|---|---|---|
| عمر | کوئی بھی عمر | عموماً 40 سال سے زیادہ | کوئی بھی عمر |
| آغاز | بچپن یا بلوغت | سگریٹ نوشی کے بعد | وائرس کے بعد |
| سانس کی آواز | سیٹی (Wheezing) | گھرگھراہٹ | عموماً نہیں |
| علامات کا انداز | آتی جاتی ہیں | مستقل اور بڑھتی ہیں | 7 سے 10 دن میں ٹھیک |
| دوا سے بہتری | تیز اور مکمل | جزوی | بغیر دوا بھی ٹھیک |
| طبی ماہر | Chest Specialist | Pulmonologist | General Physician |
اگر کھانسی دو ہفتوں سے زیادہ رہے تو فوری ڈاکٹر سے ملیں۔ سانس پھولنا، سینے میں جکڑن اور سیٹی کی آواز — یہ تینوں علامات ایک ساتھ ہوں تو دیر بالکل نہ کریں۔
اہم نوٹ: یہ مضمون صرف عام صحت آگاہی کے لیے ہے۔ یہ کسی بھی طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔ کسی بھی علامت یا صحت کے مسئلے کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔