میگنیشیم — ایک نظر میں
میگنیشیم (Magnesium) جسم میں چوتھا سب سے زیادہ مقدار میں پایا جانے والا معدن ہے جو 300 سے زیادہ جسمانی کیمیائی عملوں میں حصہ لیتا ہے۔ پاکستانی خوراک میں بادام، پالک، کالی دال، کیلا اور گندم کی روٹی میگنیشیم کے بہترین روایتی ذرائع ہیں۔ میگنیشیم کی کمی پٹھوں کی اینٹھن، نیند میں خرابی اور ہائی بلڈ پریشر سمیت کئی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
- میگنیشیم 300 سے زیادہ انزائمی عملوں کا لازمی حصہ ہے
- توانائی (ATP) پیدا کرنے کے لیے میگنیشیم ناگزیر ہے
- پٹھوں اور اعصاب کا صحیح کام کرنا میگنیشیم پر منحصر ہے
- بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول میں مدد دیتا ہے
- پاکستان میں شہری آبادی میں میگنیشیم کی کمی بڑھتی جا رہی ہے
میگنیشیم کیا ہے اور یہ جسم میں کہاں پایا جاتا ہے؟
میگنیشیم (Mg) ایک ضروری معدنیاتی عنصر ہے جو جسم میں تقریباً 25 گرام کی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس کا 60 فیصد ہڈیوں میں، 39 فیصد خلیات کے اندر (پٹھوں، دل اور دیگر اعضاء میں) اور صرف 1 فیصد خون میں پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے خون کا ٹیسٹ میگنیشیم کی کمی کا صحیح اندازہ نہیں دیتا کیونکہ جسم ہڈیوں اور پٹھوں سے میگنیشیم نکال کر خون کی سطح برقرار رکھتا ہے۔
پاکستان میں شہری زندگی، فاسٹ فوڈ، پروسیسڈ غذائیں اور تازہ سبزیوں کا کم استعمال میگنیشیم کی کمی کے اسباب ہیں۔ 2023 کی تحقیق کے مطابق پاکستانی شہری آبادی کے 40 سے 50 فیصد افراد میگنیشیم کی روزانہ ضرورت سے کم مقدار حاصل کرتے ہیں۔ زمین میں میگنیشیم کا کم ہونا اور صنعتی زراعت بھی سبزیوں میں میگنیشیم کی مقدار کم کر رہی ہے۔
میگنیشیم اور کیلشیم کا تعلق بہت گہرا ہے کیونکہ دونوں مل کر ہڈیوں، پٹھوں اور اعصاب کو صحت مند رکھتے ہیں۔ کیلشیم پٹھوں کو سکڑتا ہے جبکہ میگنیشیم انہیں ڈھیلا کرتا ہے اس لیے دونوں کا توازن ضروری ہے۔ صرف کیلشیم لینا اور میگنیشیم نظرانداز کرنا پٹھوں میں اینٹھن اور تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
میگنیشیم کے غذائی اجزاء اور ان کا کردار
میگنیشیم جسم میں بے شمار کاموں میں حصہ لیتا ہے جن میں توانائی کی پیداوار سب سے اہم ہے۔ ATP (Adenosine Triphosphate) جو جسم کی بنیادی توانائی ہے اسے میگنیشیم کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر کام جو جسم کرتا ہے چاہے چلنا ہو، سانس لینا ہو یا سوچنا ہو سب میگنیشیم پر انحصار کرتا ہے۔
| میگنیشیم کا کردار | جسمانی نظام | اہمیت |
|---|---|---|
| ATP توانائی پیداوار | تمام خلیات | ہر کام کے لیے توانائی |
| پروٹین ترکیب | خلیات | نشوونما اور مرمت |
| پٹھوں کا آرام | عضلاتی نظام | اینٹھن روکنا |
| اعصابی پیغام رسانی | اعصابی نظام | سگنل منتقلی |
| بلڈ شوگر کنٹرول | میٹابولزم | انسولین حساسیت |
| بلڈ پریشر کنٹرول | قلبی نظام | شریانیں کشادہ رکھنا |
| DNA/RNA ترکیب | نیوکلئس | جینیاتی مواد |
| ہڈیوں کی مضبوطی | ہاڈ پنجر | 60% ہڈیوں میں |
میگنیشیم دل کی صحیح دھڑکن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ دل کے پٹھوں کو آرام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بلڈ پریشر کم کرنے میں میگنیشیم شریانوں کو کشادہ (Vasodilation) کر کے خون کا دباؤ کم کرتا ہے۔ نیند کے معیار کو بہتر کرنا بھی میگنیشیم کا ایک اہم کردار ہے جو نیند لانے والے ہارمون میلاٹونن کو متحرک کرتا ہے۔
میگنیشیم جسم میں کیسے کام کرتا ہے؟
میگنیشیم خوراک سے آنتوں میں خاص ٹرانسپورٹر پروٹینز کے ذریعے جذب ہوتا ہے اور پھر خون کے ذریعے تمام اعضاء تک پہنچتا ہے۔ کل کھائے گئے میگنیشیم کا صرف 30 سے 40 فیصد آنتوں سے جذب ہوتا ہے اور باقی پاخانے میں خارج ہو جاتا ہے۔ گردے میگنیشیم کی سطح کو کنٹرول کرتے ہیں اور جب جسم میں کم ہو تو پیشاب کے ذریعے اس کا اخراج کم کر دیتے ہیں۔
میگنیشیم خلیوں کے اندر کیلشیم اور پوٹاشیم چینلز کو کنٹرول کرتا ہے جو پٹھوں اور اعصاب کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ جب خلیے میں کیلشیم بڑھتا ہے تو میگنیشیم اسے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے جو پٹھوں کو سکڑنے کے بعد آرام کرنے دیتا ہے۔ 2024 کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ کافی میگنیشیم لینے سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
دماغ میں میگنیشیم NMDA ریسیپٹرز کو کنٹرول کرتا ہے جو سیکھنے اور یادداشت کے لیے ضروری ہیں۔ کم میگنیشیم سے NMDA ریسیپٹرز زیادہ فعال ہو جاتے ہیں جو اضطراب (Anxiety) اور افسردگی (Depression) کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وجہ سے میگنیشیم کو دماغی صحت کا معدن بھی کہا جاتا ہے۔
میگنیشیم کے صحت کے لیے ثابت شدہ فوائد
میگنیشیم کا پٹھوں کی اینٹھن اور کھنچاؤ کم کرنے میں کردار تحقیق سے ثابت ہے خاص طور پر رات کو ٹانگوں کی اینٹھن میں۔ 2023 کی Cochrane Review میں پایا گیا کہ میگنیشیم سپلیمنٹ سے حاملہ خواتین میں ٹانگوں کی اینٹھن نمایاں طور پر کم ہوئی۔ کھلاڑیوں اور جسمانی محنت کرنے والے افراد میں میگنیشیم سے کارکردگی اور برداشت دونوں بہتر ہوتے ہیں۔
میگنیشیم بلڈ پریشر کم کرنے میں ثابت شدہ مددگار ہے جو دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔ 2022 کے ایک بڑے میٹا تجزیے میں پایا گیا کہ میگنیشیم سپلیمنٹ سے سیسٹولک بلڈ پریشر اوسطاً 4 سے 5 mmHg کم ہوا۔ پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر ایک وسیع مسئلہ ہے اس لیے کافی میگنیشیم لینا ایک طبی اہمیت رکھتا ہے۔
ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچاؤ میں میگنیشیم کا کردار حالیہ تحقیق نے اجاگر کیا ہے۔ میگنیشیم انسولین کے اثر کو بہتر بناتا ہے (Insulin Sensitivity) جس سے بلڈ شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔ نیند کے معیار کو بہتر کرنا، سر درد کم کرنا اور ہڈیوں کی کثافت بڑھانا میگنیشیم کے دیگر ثابت شدہ فوائد ہیں۔
میگنیشیم کی کمی اور زیادتی کے اثرات
میگنیشیم کی کمی (Hypomagnesemia) اکثر خاموشی سے بڑھتی ہے کیونکہ جسم ہڈیوں سے میگنیشیم نکال کر خون کی سطح عام رکھتا ہے۔ ابتدائی علامات میں تھکاوٹ، کمزوری، بھوک نہ لگنا اور متلی شامل ہیں جو بہت سی دیگر بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ رات کو ٹانگوں میں اینٹھن، سونے میں مشکل اور چڑچڑاپن میگنیشیم کی کمی کی خاص علامات ہیں۔
- رات کو ٹانگوں اور پیروں میں اینٹھن
- پٹھوں کا کھنچاؤ اور پھڑکنا
- نیند نہ آنا اور بے چینی
- سر درد اور درد شقیقہ (Migraine)
- تھکاوٹ اور کمزوری
- بے ترتیب دل کی دھڑکن
- اضطراب (Anxiety) اور چڑچڑاپن
- ہائی بلڈ پریشر
میگنیشیم کی زیادتی (Hypermagnesemia) خوراک سے نہیں بلکہ سپلیمنٹ کی بہت زیادہ مقدار لینے سے ہوتی ہے۔ اسہال، متلی، پیٹ میں درد اور بہت زیادہ سپلیمنٹ سے سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ گردوں کی بیماری کے مریضوں میں میگنیشیم جمع ہو سکتا ہے اور خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے انہیں میگنیشیم سپلیمنٹ ڈاکٹر کی ہدایت پر لینا چاہیے۔
میگنیشیم کی روزانہ مقدار اور استعمال کا طریقہ
میگنیشیم کی روزانہ تجویز کردہ مقدار عمر اور جنس کے مطابق مختلف ہوتی ہے جو WHO اور NIH کے رہنما اصولوں کے مطابق مقرر کی گئی ہے۔ بالغ مردوں کو 400 سے 420 ملی گرام اور بالغ خواتین کو 310 سے 320 ملی گرام روزانہ درکار ہے۔ حاملہ خواتین کو اضافی میگنیشیم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بچے کی ہڈیوں اور اعصاب کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
| عمر/حالت | روزانہ مقدار (mg) | بہترین ذریعہ |
|---|---|---|
| بچے (1–3 سال) | 80 mg | دودھ، سبزیاں |
| بچے (4–8 سال) | 130 mg | سبزیاں، دالیں |
| نوجوان لڑکے (9–13) | 240 mg | گندم، دالیں، گری دار میوے |
| نوجوان لڑکیاں (9–13) | 240 mg | گندم، دالیں |
| نوجوان لڑکے (14–18) | 410 mg | گندم، گری دار میوے، پالک |
| نوجوان لڑکیاں (14–18) | 360 mg | گندم، پالک |
| بالغ مرد (19–30) | 400 mg | گری دار میوے، دالیں |
| بالغ مرد (31+) | 420 mg | گری دار میوے، سبزیاں |
| بالغ خواتین (19–30) | 310 mg | پالک، دالیں |
| بالغ خواتین (31+) | 320 mg | پالک، دالیں |
| حاملہ خواتین | 350–400 mg | سبزیاں + ڈاکٹر سے |
میگنیشیم سپلیمنٹ رات کو سونے سے پہلے لینا نیند کو بہتر کرنے کے لیے فائدہ مند ہے۔ کھانے کے ساتھ لینا معدے میں تکلیف کم کرتا ہے اور Magnesium Oxide اور Magnesium Citrate اکثر استعمال ہونے والی اقسام ہیں۔ یاد رکھیں کہ میگنیشیم اور کیلشیم ایک ساتھ لینے سے ایک دوسرے کا جذب متاثر ہو سکتا ہے۔
میگنیشیم کے قدرتی ذرائع اور پاکستانی غذاؤں میں دستیابی
پاکستانی خوراک میں میگنیشیم کے بہترین ذرائع گندم کی روٹی، دالیں، بادام اور پالک ہیں جو روزانہ کی خوراک کا حصہ ہیں۔ کالی دال (ماش)، مسور کی دال اور چنے کی دال میگنیشیم کے سستے اور آسانی سے دستیاب ذرائع ہیں۔ پاکستانی روایتی غذائیں جن میں دال چاول اور روٹی شامل ہو میگنیشیم کی اچھی خوراک فراہم کرتی ہیں۔
| غذا | میگنیشیم (فی 100 گرام) | روزانہ RDA کا فیصد | پاکستان میں قیمت |
|---|---|---|---|
| بادام | 270 mg | 64–68% | 2000–3000 روپے فی کلو |
| کدو کے بیج | 592 mg | 141–148% | 400–600 روپے فی کلو |
| تل (سفید) | 351 mg | 84–88% | 300–400 روپے فی کلو |
| پالک (پکی) | 87 mg | 21–22% | 50–80 روپے فی گٹھی |
| کالی دال (ماش) | 143 mg | 34–36% | 200–300 روپے فی کلو |
| گندم (پوری، آٹا) | 138 mg | 33–35% | 80–120 روپے فی کلو |
| چاول (براؤن) | 143 mg | 34–36% | 150–200 روپے فی کلو |
| کیلا | 27 mg | 6–7% | 100–150 روپے فی درجن |
کدو کے بیج میگنیشیم کا ایک انتہائی امیر اور سستا ذریعہ ہیں جنہیں پاکستانی گھرانوں میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ روزانہ ایک مٹھی بادام کھانا بھی میگنیشیم کی ضرورت کا بڑا حصہ پورا کر دیتا ہے۔ گندم کی پوری آٹے سے بنی روٹی میدے کی روٹی سے زیادہ میگنیشیم فراہم کرتی ہے کیونکہ میدہ بنانے میں میگنیشیم کا چوکر ہٹا دیا جاتا ہے۔
میگنیشیم کا سپلیمنٹ — کب ضروری ہے اور کیا احتیاط کریں؟
میگنیشیم سپلیمنٹ ان لوگوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے جن میں نیند کی خرابی، مستقل سر درد، پٹھوں کی اینٹھن یا ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو اور خوراک میگنیشیم میں کم ہو۔ ذیابیطس کے مریضوں، الکوحل استعمال کرنے والوں اور دائمی اسہال کے مریضوں میں میگنیشیم کی کمی عام ہے۔ ڈاکٹر کے ٹیسٹ کے بعد سپلیمنٹ شروع کرنا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔
| سپلیمنٹ کی قسم | خصوصیت | تخمینی قیمت (PKR) |
|---|---|---|
| Magnesium Oxide | سستا، کم جذب (4%) | 200–500 |
| Magnesium Citrate | اچھا جذب، قبض میں مفید | 400–1200 |
| Magnesium Glycinate | بہترین جذب، نیند کے لیے | 1500–4000 |
| Magnesium Malate | توانائی اور تھکاوٹ کے لیے | 1500–3500 |
| مقامی برانڈز | مختلف اقسام | 300–1000 |
میگنیشیم سپلیمنٹ کے ضمنی اثرات میں اسہال اور پیٹ میں تکلیف سب سے عام ہیں خاص طور پر زیادہ مقدار میں لینے پر۔ Magnesium Glycinate معدے پر سب سے نرم قسم ہے اور نیند بہتر کرنے کے لیے بھی بہترین ہے۔ گردوں کی بیماری کے مریض میگنیشیم سپلیمنٹ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر ہرگز نہ لیں کیونکہ گردے اسے خارج نہیں کر سکتے۔
میگنیشیم سے متعلق خاص احتیاط اور عام غلط فہمیاں
حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے
حاملہ خواتین کو روزانہ 350 سے 400 ملی گرام میگنیشیم کی ضرورت ہوتی ہے جو بچے کی ہڈیوں اور اعصاب کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ حمل کے آخری مہینوں میں ٹانگوں کی اینٹھن ایک عام شکایت ہے جو میگنیشیم کی کمی سے منسلک ہو سکتی ہے۔ Preeclampsia کے علاج میں IV میگنیشیم سلفیٹ استعمال ہوتی ہے جو ہسپتال میں ڈاکٹر دیتا ہے۔
بچوں کے لیے خاص ہدایت
بچوں کی نشوونما اور ہڈیوں کی تعمیر کے لیے میگنیشیم ضروری ہے جو دالوں، سبزیوں اور گندم کی روٹی سے حاصل ہوتا ہے۔ نوعمری (14–18 سال) میں میگنیشیم کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ہڈیاں تیزی سے بڑھتی ہیں۔ بچوں کو میگنیشیم سپلیمنٹ صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر دینا چاہیے۔
بزرگ افراد کے لیے احتیاط
بزرگ افراد میں میگنیشیم کی کمی عام ہے کیونکہ جذب کم ہوتا ہے اور گردے پیشاب میں زیادہ خارج کرتے ہیں۔ بزرگوں میں بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ہڈیوں کی کمزوری کے لیے میگنیشیم کی کافی مقدار خاص طور پر اہم ہے۔ بزرگ افراد جو دیگر دوائیں لے رہے ہوں وہ میگنیشیم سپلیمنٹ شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
مخصوص بیماریوں میں پرہیز
گردوں کی دائمی بیماری (CKD) کے مریضوں میں میگنیشیم جمع ہو سکتا ہے کیونکہ گردے اسے خارج نہیں کر پاتے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں میگنیشیم کی کمی اکثر پائی جاتی ہے اور کنٹرول کے بغیر ذیابیطس میگنیشیم کا اخراج بڑھاتی ہے۔ Crohn’s disease اور Celiac disease میں میگنیشیم کا جذب کم ہوتا ہے اس لیے سپلیمنٹ ضروری ہو سکتا ہے۔
عام غلط فہمیاں اور ان کی وضاحت
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ Epsom نمک (Magnesium Sulfate) کے غسل سے جسم میگنیشیم جذب کرتا ہے — سائنسی شواہد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خون کا ٹیسٹ نارمل ہو تو میگنیشیم کافی ہے جبکہ جسم کا 99 فیصد میگنیشیم خلیات میں ہے جو خون سے نہیں ناپا جاتا۔ یہ بھی غلط ہے کہ میگنیشیم سپلیمنٹ ہمیشہ محفوظ ہے — گردوں کے مریضوں کے لیے یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
میگنیشیم کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات
میگنیشیم نیند بہتر کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟
میگنیشیم GABA ریسیپٹرز کو فعال کرتا ہے جو دماغ کو پرسکون کرتے اور نیند لانے میں مدد کرتے ہیں۔ میلاٹونن (نیند کا ہارمون) بنانے کے لیے بھی میگنیشیم ضروری ہے جو نیند کے چکر کو منظم کرتا ہے۔ سونے سے پہلے Magnesium Glycinate لینا نیند کے معیار کو بہتر کر سکتا ہے۔
کیا میگنیشیم سے درد شقیقہ ٹھیک ہوتا ہے؟
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ میگنیشیم کی کمی درد شقیقہ (Migraine) کے حملوں سے منسلک ہے۔ میگنیشیم سپلیمنٹ سے Migraine کی تعداد اور شدت دونوں کم ہو سکتی ہیں لیکن یہ سب کے لیے کارگر نہیں۔ ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ کیا آپ کے Migraine میں میگنیشیم کی کمی کا کردار ہے۔
کیا میگنیشیم اور کیلشیم ایک ساتھ لے سکتے ہیں؟
میگنیشیم اور کیلشیم دونوں ایک ساتھ لینے سے ایک دوسرے کا جذب کم ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ صبح کیلشیم اور رات کو میگنیشیم لیں تاکہ دونوں زیادہ سے زیادہ جذب ہو سکیں۔ خوراک سے دونوں حاصل کرنا سب سے بہتر طریقہ ہے کیونکہ وہاں توازن قدرتی طور پر ہوتا ہے۔
میگنیشیم ذیابیطس میں کیسے مدد کرتا ہے؟
میگنیشیم انسولین ریسیپٹرز کی حساسیت بڑھاتا ہے جس سے خلیے انسولین کو بہتر طریقے سے استعمال کر پاتے ہیں۔ کافی میگنیشیم لینے سے بلڈ شوگر کنٹرول بہتر ہوتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں میگنیشیم کی کمی عام ہے اس لیے ڈاکٹر سے سطح چیک کروانا ضروری ہے۔
ٹانگوں کی رات کو اینٹھن میگنیشیم سے ٹھیک ہوتی ہے؟
رات کو ٹانگوں کی اینٹھن کے کئی سبب ہو سکتے ہیں جن میں میگنیشیم کی کمی ایک اہم سبب ہے۔ میگنیشیم کی کمی کی صورت میں سپلیمنٹ لینے سے اینٹھن کم ہو سکتی ہے لیکن پہلے ڈاکٹر سے دیگر اسباب جیسے آئرن کی کمی یا گردے کی بیماری رد کرنا ضروری ہے۔ حاملہ خواتین میں تحقیق نے میگنیشیم سے اینٹھن کم ہونا ثابت کیا ہے۔
کیا کیلا میگنیشیم کا اچھا ذریعہ ہے؟
کیلا میگنیشیم فراہم کرتا ہے لیکن فی 100 گرام صرف 27 ملی گرام جو روزانہ ضرورت کا 6 سے 7 فیصد ہے۔ کیلا اکیلے میگنیشیم کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا لیکن یہ پوٹاشیم اور فائبر کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ کدو کے بیج، بادام اور پالک کیلے سے کہیں زیادہ میگنیشیم فراہم کرتے ہیں۔
میگنیشیم کے متبادل ذرائع اور تقابلی جائزہ
میگنیشیم پاکستانی خوراک میں متعدد ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے جن میں غلے، دالیں، گری دار میوے اور سبزیاں شامل ہیں۔ سپلیمنٹ کی بہت سی اقسام ہیں جن کا جذب، مقصد اور قیمت مختلف ہے اس لیے صحیح قسم منتخب کرنا ضروری ہے۔ نیچے کی جدول مختلف ذرائع کا تقابلی جائزہ پیش کرتی ہے۔
| ذریعہ | میگنیشیم فی حصہ | جذب کی شرح | بہترین استعمال | احتیاط |
|---|---|---|---|---|
| کدو کے بیج (30g) | 150 mg | 30–40% | اسنیک، سلاد | کیلوریز خیال کریں |
| بادام (30g) | 80 mg | 30–40% | ناشتہ، اسنیک | مہنگا |
| پالک (100g، پکی) | 87 mg | 35% | سبزی، سالن | آکسیلیٹ جذب کم کرے |
| Mg Oxide | 500 mg | 4% | سستا لیکن کم مؤثر | اسہال ہو سکتا ہے |
| Mg Citrate | 200 mg | 30% | قبض، عام کمی | اسہال کا خطرہ |
| Mg Glycinate | 200 mg | 40–50% | نیند، اضطراب | مہنگا |
مجموعی طور پر میگنیشیم ایک ایسا ضروری معدن ہے جس کی پاکستانی شہری آبادی میں کمی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ پروسیسڈ اور ریفائنڈ غذاؤں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ کدو کے بیج، بادام، دالیں اور پوری آٹے کی روٹی روزانہ کھانا میگنیشیم کی ضرورت قدرتی طریقے سے پوری کر سکتا ہے۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی کے ساتھ میگنیشیم ہڈیوں اور دل کی صحت کے لیے ایک مکمل غذائی نظام فراہم کرتا ہے۔
اہم نوٹ: یہ مضمون صرف عام غذائی آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی سپلیمنٹ یا خاص غذائی نظام کو اپنانے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کریں۔ خود سے سپلیمنٹ لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔