آئرن — ایک نظر میں
آئرن (Iron / لوہا) ایک ضروری معدنیات ہے جو جسم میں خون کا سرخ رنگ اور آکسیجن منتقل کرنے کا کام کرتا ہے۔ پاکستان میں خون کی کمی (Anemia) کا سب سے بڑا سبب آئرن کی کمی ہے جو بچوں اور خواتین کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ کلیجی، لال گوشت، پالک اور دالیں پاکستانی خوراک میں آئرن کے بہترین ذرائع ہیں۔
- آئرن خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) بنانے کے لیے ناگزیر ہے
- پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ بچے اور خواتین آئرن کی کمی کا شکار ہیں
- کلیجی، لال گوشت اور پالک آئرن کے بہترین قدرتی ذرائع ہیں
- وٹامن سی کے ساتھ آئرن کا جذب نمایاں طور پر بڑھتا ہے
- چائے اور کافی آئرن کا جذب روکتی ہیں اس لیے کھانے کے ساتھ نہ پیئں
آئرن کیا ہے اور یہ جسم میں کہاں پایا جاتا ہے؟
آئرن (Iron، علامت Fe) ایک ضروری معدنیاتی عنصر ہے جو جسم میں تقریباً 3 سے 4 گرام کی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ خون کے سرخ خلیات میں ہیموگلوبن (Hemoglobin) کی شکل میں موجود ہوتا ہے جو آکسیجن منتقل کرتا ہے۔ باقی آئرن جگر، تلی اور ہڈیوں کے گودے میں Ferritin اور Hemosiderin کی شکل میں ذخیرہ رہتا ہے۔
آئرن دو بنیادی اقسام میں پایا جاتا ہے: Heme iron جو جانوری خوراک میں ہوتا ہے اور Non-heme iron جو پودوں کی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ Heme iron جسم میں 15 سے 35 فیصد جذب ہوتا ہے جبکہ Non-heme iron صرف 2 سے 20 فیصد جذب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبزی خور افراد کو آئرن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے۔
پاکستان میں آئرن کی کمی ایک سنگین قومی صحت مسئلہ ہے جو 2023 کے قومی غذائی سروے کے مطابق بچوں میں 62 فیصد اور حاملہ خواتین میں 56 فیصد تک پائی جاتی ہے۔ کم خوراک، غذائی قلت اور طفیلی بیماریاں اس مسئلے کے بنیادی اسباب ہیں۔ آئرن کی یہ وسیع کمی پاکستانی بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
آئرن کے غذائی اجزاء اور ان کا کردار
آئرن جسم میں متعدد اہم افعال انجام دیتا ہے جن میں آکسیجن کی منتقلی سب سے اہم ہے۔ ہیموگلوبن میں آئرن ہی وہ عنصر ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر پورے جسم کے خلیات تک پہنچاتا ہے۔ مائیوگلوبن (Myoglobin) میں آئرن پٹھوں میں آکسیجن ذخیرہ کرتا ہے جو جسمانی سرگرمی کے دوران استعمال ہوتی ہے۔
| آئرن کا کردار | جسمانی نظام | اہمیت |
|---|---|---|
| ہیموگلوبن بنانا | خون | آکسیجن منتقلی |
| مائیوگلوبن بنانا | پٹھے | پٹھوں میں آکسیجن ذخیرہ |
| قوت مدافعت | مدافعتی نظام | جراثیم سے لڑنا |
| توانائی پیدا کرنا | خلیات | ATP توانائی |
| دماغی نشوونما | دماغ | ذہانت اور یادداشت |
| ڈی این اے بنانا | تمام خلیات | خلیات کی افزائش |
آئرن کا ایک اہم کردار مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنا بھی ہے کیونکہ مدافعتی خلیات کو کام کرنے کے لیے آئرن درکار ہوتا ہے۔ آئرن کی کمی میں مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور بچے بار بار انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے بھی آئرن انتہائی ضروری ہے کیونکہ دماغ اسے نیوروٹرانسمیٹرز بنانے میں استعمال کرتا ہے۔
آئرن جسم میں کیسے کام کرتا ہے؟
آئرن خوراک سے آنتوں (خاص طور پر چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے Duodenum) میں جذب ہوتا ہے اور پھر خون کے ذریعے تمام جسم میں تقسیم ہوتا ہے۔ جذب ہونے کے بعد یہ Transferrin نامی پروٹین کے ساتھ مل کر ہڈیوں کے گودے (Bone Marrow) تک پہنچتا ہے۔ ہڈیوں کے گودے میں آئرن نئے سرخ خون کے خلیات (Red Blood Cells) بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
جسم آئرن کو انتہائی احتیاط سے ری سائیکل کرتا ہے کیونکہ یہ ایک قیمتی معدن ہے جو آسانی سے خارج نہیں ہوتا۔ پرانے سرخ خون کے خلیات جب تلی میں ختم ہوتے ہیں تو ان کا آئرن واپس خون میں آ جاتا ہے اور دوبارہ استعمال ہوتا ہے۔ 2024 کی تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ وٹامن سی آئرن کے جذب کو 3 گنا تک بڑھا سکتا ہے۔
Hepcidin ایک ہارمون ہے جو جگر بناتا ہے اور جسم میں آئرن کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ جب جسم میں آئرن زیادہ ہو تو Hepcidin بڑھتا ہے اور آئرن کا جذب کم کر دیتا ہے جو زیادتی سے بچاتا ہے۔ اس طرح جسم آئرن کی مقدار کو خودکار طریقے سے متوازن رکھتا ہے۔
آئرن کے صحت کے لیے ثابت شدہ فوائد
آئرن کا سب سے اہم فائدہ خون کی کمی (Iron Deficiency Anemia) کو روکنا اور ٹھیک کرنا ہے جو پاکستان میں ایک وسیع مسئلہ ہے۔ کافی آئرن حاصل کرنے والے افراد تھکاوٹ، سستی اور سانس پھولنے کی تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں۔ 2023 کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ آئرن سپلیمنٹ سے خون کی کمی والے بچوں کی ذہانت اور اسکول میں کارکردگی بہتر ہوئی۔
حاملہ خواتین کے لیے آئرن انتہائی ضروری ہے کیونکہ حمل کے دوران خون کا حجم 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ آئرن کی کافی مقدار قبل از وقت پیدائش، بچے کا کم وزن اور ماں کی پیدائش کے دوران اموات کا خطرہ کم کرتی ہے۔ WHO کے مطابق حمل کے دوران آئرن سپلیمنٹ لینا تمام حاملہ خواتین کے لیے ضروری ہے۔
آئرن جسمانی توانائی اور پٹھوں کی کارکردگی کے لیے بھی ضروری ہے جو کھلاڑیوں اور محنت کش افراد کے لیے اہم ہے۔ آئرن کی مناسب مقدار جسمانی تھکاوٹ کم کرتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔ قوت مدافعت کو مضبوط رکھنا بھی آئرن کا اہم ثابت شدہ فائدہ ہے۔
آئرن کی کمی اور زیادتی کے اثرات
آئرن کی کمی دنیا میں سب سے عام غذائی کمی ہے اور پاکستان میں یہ مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے۔ ابتدائی مراحل میں Ferritin کی سطح گرتی ہے پھر ہیموگلوبن کم ہوتا ہے اور آخر میں خون کی کمی (Anemia) ظاہر ہوتی ہے۔ اگر آپ یا آپ کے بچے کو مستقل تھکاوٹ، سانس پھولنا، سر چکرانا یا جلد کا زردی مائل ہونا ہو تو فوراً خون کا ٹیسٹ کروائیں۔
- شدید تھکاوٹ اور کمزوری جو آرام سے دور نہ ہو
- پیلی جلد، ناخن اور آنکھوں کی سفیدی
- سانس پھولنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا
- سر درد، چکر آنا اور توجہ مرکوز نہ کر پانا
- بچوں میں ذہنی نشوونما کا سست ہونا
- مٹی، کچی مٹی یا برف کھانے کی خواہش (Pica)
- بار بار انفیکشن اور بیمار ہونا
آئرن کی زیادتی (Iron Toxicity) بھی سنگین نقصان دہ ہو سکتی ہے خاص طور پر بچوں میں جو بڑوں کے سپلیمنٹ غلطی سے کھا لیں۔ Hemochromatosis ایک جینیاتی بیماری ہے جس میں جسم ضرورت سے زیادہ آئرن جذب کرتا ہے جو جگر، دل اور پینکریاز کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آئرن سپلیمنٹ ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت پر لیں کیونکہ غیر ضروری آئرن نقصان دہ ہے۔
آئرن کی روزانہ مقدار اور استعمال کا طریقہ
آئرن کی روزانہ تجویز کردہ مقدار عمر، جنس اور جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہوتی ہے جیسا کہ WHO اور پاکستان نیشنل نیوٹریشن سروے کے رہنما اصولوں میں بیان ہے۔ حیض والی خواتین کو مردوں سے زیادہ آئرن کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ماہانہ خون کے ساتھ آئرن بھی خارج ہوتا ہے۔ حاملہ خواتین کو سب سے زیادہ 27 ملی گرام روزانہ آئرن درکار ہوتا ہے۔
| عمر/حالت | روزانہ مقدار (mg) | بہترین ذریعہ |
|---|---|---|
| بچے 0–6 ماہ | 0.27 mg | ماں کا دودھ |
| بچے 7–12 ماہ | 11 mg | گوشت، دال، قلعی شدہ اناج |
| بچے 1–3 سال | 7 mg | گوشت، دالیں، سبزیاں |
| بچے 4–8 سال | 10 mg | گوشت، دالیں، سبزیاں |
| لڑکے 9–13 سال | 8 mg | گوشت، دالیں |
| لڑکیاں 9–13 سال | 8 mg | گوشت، دالیں |
| لڑکیاں 14–18 سال | 15 mg | گوشت، پالک، دالیں |
| بالغ مرد | 8 mg | گوشت، کلیجی |
| بالغ خواتین (19–50) | 18 mg | گوشت، پالک، دالیں |
| حاملہ خواتین | 27 mg | گوشت + سپلیمنٹ (ڈاکٹر سے) |
| دودھ پلانے والی | 9–10 mg | گوشت، دالیں |
| بزرگ افراد (51+) | 8 mg | گوشت، دالیں |
آئرن کا جذب بڑھانے کے لیے کھانے کے ساتھ وٹامن سی والی غذا لینا انتہائی مفید ہے۔ لیموں کا رس، ٹماٹر یا آملہ دال یا پالک کے ساتھ کھانے سے آئرن کا جذب تین گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ کھانے کے فوراً بعد یا دوران چائے یا کافی پینے سے آئرن کا جذب نصف تک کم ہو جاتا ہے۔
آئرن کے قدرتی ذرائع اور پاکستانی غذاؤں میں دستیابی
پاکستانی خوراک میں آئرن کے بہترین ذرائع کلیجی، لال گوشت، مرغی کا گوشت اور مچھلی ہیں جو Heme iron فراہم کرتے ہیں۔ پودوں سے ملنے والے Non-heme iron کے ذرائع میں پالک، دالیں (مسور، چنا، لوبیا)، سویابین اور تل شامل ہیں۔ پاکستانی خوراک میں روزانہ دال کھانا آئرن حاصل کرنے کا ایک عام اور سستا طریقہ ہے۔
| غذا | آئرن (فی 100 گرام) | آئرن کی قسم | پاکستان میں قیمت |
|---|---|---|---|
| گائے کی کلیجی | 6.2 mg | Heme (بہترین جذب) | 400–600 روپے فی کلو |
| لال گوشت (بکری) | 2.7 mg | Heme | 1400–2000 روپے فی کلو |
| مرغی کا گوشت | 1.3 mg | Heme | 500–700 روپے فی کلو |
| مسور کی دال | 3.3 mg | Non-heme | 250–350 روپے فی کلو |
| چنے کی دال | 2.9 mg | Non-heme | 200–300 روپے فی کلو |
| پالک (پکی ہوئی) | 3.6 mg | Non-heme | 50–80 روپے فی گٹھی |
| تل (سفید) | 14.6 mg | Non-heme | 300–400 روپے فی کلو |
| گڑ (گنے کا) | 11 mg | Non-heme | 150–250 روپے فی کلو |
گڑ پاکستانی خوراک میں آئرن کا ایک اہم مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا ذریعہ ہے جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے۔ تل کا استعمال پاکستانی مٹھائیوں جیسے تل کے لڈو اور چکی میں ہوتا ہے جو آئرن حاصل کرنے کا ایک روایتی طریقہ ہے۔ وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ ان ذرائع کا استعمال آئرن کے جذب کو بہتر بناتا ہے۔
آئرن کا سپلیمنٹ — کب ضروری ہے اور کیا احتیاط کریں؟
آئرن کا سپلیمنٹ ان افراد کے لیے ضروری ہو جاتا ہے جن میں خون کا ٹیسٹ آئرن کی کمی ثابت کرے۔ حاملہ خواتین، چھ ماہ سے زیادہ عمر کے دودھ پر منحصر بچے اور شدید حیض والی خواتین کو عموماً سپلیمنٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر کے ٹیسٹ کے بغیر آئرن سپلیمنٹ شروع کرنا نقصاندہ ہو سکتا ہے۔
| سپلیمنٹ کی قسم | خصوصیت | تخمینی قیمت (PKR) |
|---|---|---|
| Ferrous Sulfate | سستا، سب سے عام، مؤثر | 100–300 (30 گولیاں) |
| Ferrous Gluconate | معدے پر نرم، کم آئرن فی گولی | 200–400 |
| Ferrous Fumarate | زیادہ آئرن فی گولی | 200–450 |
| Iron Bisglycinate | بہترین جذب، معدے پر نرم، مہنگا | 1500–4000 |
| Liquid Iron (بچوں کے لیے) | بچوں کے لیے آسان | 400–800 |
آئرن سپلیمنٹ لیتے وقت کچھ ضروری احتیاطیں برتنی چاہئیں تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ آئرن کی گولی صبح خالی پیٹ لینا جذب کے لیے بہتر ہے مگر اگر معدے میں تکلیف ہو تو ہلکے کھانے کے ساتھ لیں۔ آئرن سپلیمنٹ کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں کیونکہ زیادہ مقدار بچوں کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہے۔
آئرن سے متعلق خاص احتیاط اور عام غلط فہمیاں
حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے
حاملہ خواتین کو روزانہ 27 ملی گرام آئرن کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف خوراک سے پوری کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ پاکستان میں حاملہ خواتین میں آئرن کی کمی سے خون کی کمی بچے کی پیدائش کے وقت اموات کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ تمام حاملہ خواتین کو پہلے تین ماہ سے ہی ڈاکٹر کی ہدایت پر آئرن اور فولک ایسڈ کا سپلیمنٹ لینا شروع کرنا چاہیے۔
بچوں کے لیے خاص ہدایت
چھ ماہ سے بڑے بچوں کے لیے آئرن سے بھرپور ٹھوس غذا شروع کرنا ضروری ہے کیونکہ ماں کا دودھ اب کافی نہیں رہتا۔ پاکستانی روایتی لوئی یا دلیے میں تھوڑا گوشت یا مسور کی دال ملانا بچوں کے لیے آئرن کا اچھا ذریعہ ہے۔ بچوں کے آئرن ٹیسٹ ہر سال کروانا بہتر ہے خاص طور پر وہ بچے جو کم گوشت کھاتے ہیں۔
بزرگ افراد کے لیے احتیاط
بزرگ افراد میں آئرن کی کمی اکثر آنتوں سے خون بہنے کی وجہ سے ہوتی ہے جو اندر سے بہتا ہے اور نظر نہیں آتا۔ بزرگوں میں بغیر وجہ آئرن کی کمی ہو تو آنتوں کا معائنہ ضروری ہے۔ بزرگ مردوں کو آئرن سپلیمنٹ صرف ثابت شدہ کمی کی صورت میں لینا چاہیے کیونکہ فالتو آئرن دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
مخصوص بیماریوں میں پرہیز
Hemochromatosis (آئرن کا زیادہ جمع ہونا) کے مریضوں کو آئرن سپلیمنٹ یا آئرن سے بھرپور غذائیں محدود کرنی چاہئیں۔ گردے کی بیماری، جگر کا سروسس اور سکل سیل انیمیا میں آئرن سپلیمنٹ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہ لیں۔ تھیلیسیمیا (Thalassemia) کے مریضوں میں آئرن کا اضافی ذخیرہ پہلے سے مسئلہ ہوتا ہے اس لیے سپلیمنٹ مضر ہو سکتا ہے۔
عام غلط فہمیاں اور ان کی وضاحت
ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ پالک کھانے سے کافی آئرن مل جاتا ہے جبکہ پالک کا Non-heme iron جذب ہونے کی شرح بہت کم ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ آئرن سپلیمنٹ لیناضروری نہیں اگر کھانا ٹھیک ہو لیکن حاملہ خواتین اور بچوں میں خوراک سے اکثر ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ یہ بھی غلط فہمی ہے کہ آئرن کی گولی کالے پاخانے کا مطلب کوئی مسئلہ ہے — یہ آئرن کا عام ضمنی اثر ہے جو بے ضرر ہے۔
آئرن کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات
خون کی کمی کیسے معلوم ہوتی ہے؟
خون کی کمی کا پتہ CBC (Complete Blood Count) ٹیسٹ سے لگتا ہے جو ہیموگلوبن اور Ferritin دونوں بتاتا ہے۔ مردوں میں ہیموگلوبن 13.5 سے کم اور خواتین میں 12 سے کم ہونا خون کی کمی کی علامت ہے۔ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں یہ ٹیسٹ سستا اور آسانی سے دستیاب ہے۔
آئرن کی گولی کے کیا ضمنی اثرات ہیں؟
آئرن کی گولی کے عام ضمنی اثرات میں قبض، متلی، پیٹ میں تکلیف اور کالا پاخانہ شامل ہیں۔ ان اثرات کو کم کرنے کے لیے گولی کھانے کے ساتھ لیں اور مقدار آہستہ آہستہ بڑھائیں۔ اگر تکلیف بہت زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے Ferrous Bisglycinate جیسا نرم آئرن سپلیمنٹ تجویز کروائیں۔
کیا پالک سے کافی آئرن ملتا ہے؟
پالک میں آئرن کافی مقدار میں ہوتا ہے لیکن اس کا Non-heme iron صرف 2 سے 8 فیصد جذب ہوتا ہے۔ پالک کے ساتھ لیموں یا ٹماٹر ملانے سے وٹامن سی آئرن کے جذب کو بڑھاتا ہے۔ پالک خون کی کمی ٹھیک کرنے کے لیے اکیلا کافی نہیں ہوتا لیکن متوازن خوراک کے حصے کے طور پر مفید ہے۔
آئرن سپلیمنٹ کتنے عرصے میں کمی دور کرتا ہے؟
ہیموگلوبن کی سطح عام طور پر آئرن سپلیمنٹ شروع کرنے کے 4 سے 8 ہفتوں میں بہتر ہونے لگتی ہے۔ تاہم جسم کے آئرن ذخائر (Ferritin) بھرنے میں 3 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پورا کورس مکمل کرنا ضروری ہے چاہے علامات پہلے ختم ہو جائیں۔
چائے پینے سے آئرن کم کیوں ہوتا ہے؟
چائے میں ٹینن (Tannins) نامی مادے ہوتے ہیں جو آئرن کے ساتھ مل کر ایک ایسا مرکب بناتے ہیں جو آنتوں سے جذب نہیں ہو سکتا۔ کھانے کے ایک گھنٹے پہلے یا بعد چائے پینا آئرن کے جذب کو کم متاثر کرتا ہے۔ زیادہ چائے پینے والے پاکستانی افراد کو خاص طور پر آئرن کی کمی کا خطرہ رہتا ہے۔
گوشت نہ کھانے والے آئرن کیسے پوری کریں؟
سبزی خور افراد مسور کی دال، چنے، لوبیا، تل، کدو کے بیج اور سویابین سے Non-heme iron حاصل کر سکتے ہیں۔ ہر آئرن والی غذا کے ساتھ وٹامن سی والی چیز جیسے لیموں، ٹماٹر یا آملہ ضرور کھائیں۔ چائے اور کافی سے پرہیز اور کاسٹ آئرن برتنوں میں پکانا بھی آئرن بڑھانے کے فطری طریقے ہیں۔
آئرن کے متبادل ذرائع اور تقابلی جائزہ
آئرن حاصل کرنے کے مختلف ذرائع اپنی افادیت اور جذب کی شرح میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ Heme iron جانوری خوراک سے بہت بہتر شرح میں جذب ہوتا ہے جبکہ Non-heme iron پودوں کی غذاؤں سے کم جذب ہوتا ہے۔ صحیح غذائی امتزاج اور کھانے کے طریقے سے Non-heme iron کا جذب بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
| ذریعہ | آئرن کی قسم | جذب کی شرح | فائدہ | احتیاط |
|---|---|---|---|---|
| کلیجی/گوشت | Heme | 15–35% | بہترین جذب، پروٹین بھی | زیادہ چکنائی |
| مسور/چنے کی دال | Non-heme | 2–8% | سستا، پروٹین و فائبر بھی | وٹامن سی کے ساتھ لیں |
| پالک | Non-heme | 2–8% | Folate اور دیگر غذائیت بھی | وٹامن سی کے ساتھ لیں |
| گڑ | Non-heme | 3–10% | سستا، روایتی ذریعہ | کیلوریز زیادہ |
| Ferrous Sulfate | سپلیمنٹ | 20–30% | تیز اثر، سستا | معدے میں تکلیف |
| Iron Bisglycinate | سپلیمنٹ | 30–40% | بہترین جذب، نرم | مہنگا |
مجموعی طور پر آئرن پاکستانی آبادی کے لیے ایک انتہائی اہم معدن ہے جس کی وسیع کمی ایک قومی چیلنج ہے۔ کلیجی، دالیں اور گڑ کا روزانہ استعمال اور چائے سے کھانے کے وقت پرہیز آئرن کی سطح بہتر رکھ سکتا ہے۔ وٹامن بی 12 اور فولک ایسڈ کے ساتھ آئرن کا مناسب استعمال خون کی کمی کو مکمل طور پر روک سکتا ہے۔
اہم نوٹ: یہ مضمون صرف عام غذائی آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی سپلیمنٹ یا خاص غذائی نظام کو اپنانے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کریں۔ خود سے سپلیمنٹ لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔