ایک نظر میں (AT A GLANCE)
دل کی بیماریاں عالمی سطح پر اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 1.79 کروڑ افراد قلبی امراض سے جان گنواتے ہیں۔ کورونری آرٹری ڈیزیز، ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلیئر سب سے عام اقسام ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ تر معاملات میں طرز زندگی، خوراک اور جینیاتی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر سے خطرات میں 80 فیصد تک کمی ممکن ہے۔
دل کی بیماریوں کی اقسام
بنیادی درجہ بندی
طبی تحقیق میں قلبی امراض کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کورونری آرٹری ڈیزیز (CAD) سب سے عام قسم ہے جس میں دل کو خون پہنچانے والی شریانوں میں رکاوٹ یا تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہارٹ اٹیک یا Myocardial Infarction وہ کیفیت ہے جب دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی اچانک بند ہو جائے اور ٹشو کو مستقل نقصان پہنچے۔
ہارٹ فیلیئر میں دل کی پمپنگ صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے اور جسم کو کافی خون نہیں ملتا۔ دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی یا Arrhythmia دل کے برقی نظام میں خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے جس سے دھڑکن بہت تیز یا سست ہو جاتی ہے۔ والو کی بیماریاں (Valvular Disease) میں دل کے والوز میں نقص یا خرابی کی وجہ سے خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔
اہم خطرے کے عوامل
قابل تبدیلی وجوہات
تحقیقی مطالعات ثابت کرتے ہیں کہ کچھ عوامل قابو میں لائے جا سکتے ہیں۔ تمباکو نوشی چاہے سگریٹ، بیڑی یا حقہ کی شکل میں ہو، دل کی صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔ ہائی بلڈ پریشر جب 140/90 mmHg سے زیادہ ہو تو خطرے کی اعلیٰ سطح سمجھی جاتی ہے۔ ہائی کولیسٹرول خاص طور پر جب LDL کی مقدار 160 mg/dL سے تجاوز کر جائے تو شریانوں میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔
| عامل | تفصیل | خطرے کی سطح |
|---|---|---|
| تمباکو نوشی | سگریٹ، بیڑی، حقہ | بہت زیادہ |
| ہائی بلڈ پریشر | 140/90 mmHg سے زیادہ | زیادہ |
| ہائی کولیسٹرول | LDL > 160 mg/dL | زیادہ |
| ذیابیطس | بے قابو شوگر لیول | بہت زیادہ |
| موٹاپا | BMI > 30 | درمیانہ سے زیادہ |
| جسمانی سستی | روزانہ سرگرمی کی کمی | درمیانہ |
بے قابو ذیابیطس کی کیفیت بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ شوگر کی بلند سطح خون کی رگوں کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہے۔ موٹاپا خاص طور پر جب BMI 30 سے زیادہ ہو تو درمیانے سے زیادہ خطرے کا باعث بنتا ہے۔ روزانہ جسمانی سرگرمی کی کمی یا مکمل سستی درمیانے درجے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
تمباکو نوشی کا کردار
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق سگریٹ نوشی دل کی بیماریوں کا خطرہ دوگنا کر دیتی ہے۔ نیکوٹین شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور خون کو گاڑھا بناتا ہے۔ طبی شواہد بتاتے ہیں کہ سگریٹ کے دھویں میں موجود کیمیکل شریانوں کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
“سگریٹ نوشی ترک کرنے کے محض ایک سال بعد دل کی بیماری کا خطرہ نصف رہ جاتا ہے۔” — امریکن کینسر سوسائٹی
ہائی بلڈ پریشر
مسلسل بلند بلڈ پریشر شریانوں کی دیواروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ماہرین قلب کے مطابق یہ فالج اور ہارٹ اٹیک کی بڑی وجہ ہے۔ جب خون مسلسل زیادہ دباؤ سے شریانوں میں بہتا ہے تو دیواریں سخت اور کمزور ہو جاتی ہیں۔
کولیسٹرول کی سطح
LDL یا خراب کولیسٹرول شریانوں میں تختیاں بناتا ہے جو وقت کے ساتھ رگوں کو تنگ کر دیتی ہیں۔ HDL یا اچھا کولیسٹرول ان تختیوں کو ہٹانے میں مدد کرتا ہے اور شریانوں کی صفائی کا کام کرتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کل کولیسٹرول 200 mg/dL سے کم ہونا چاہیے۔ LDL کی مثالی سطح 100 mg/dL سے کم ہے جبکہ HDL مردوں میں 40 اور خواتین میں 50 mg/dL سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔ Triglycerides کی سطح 150 mg/dL سے کم رکھنی چاہیے۔
ذیابیطس کا تعلق
طبی شواہد بتاتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماری کا خطرہ 2 سے 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ شوگر خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور شریانوں کی لچک کم کر دیتی ہے۔ تحقیقی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بے قابو ذیابیطس نہ صرف دل بلکہ گردوں اور آنکھوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
غیر قابل تبدیلی عوامل
کچھ وجوہات قدرتی ہیں جن پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ عمر ایک اہم عامل ہے کیونکہ مردوں میں 45 سال کے بعد اور خواتین میں 55 سال یا menopause کے بعد خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ جنس کا بھی کردار ہے کیونکہ مرد کم عمری میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں لیکن خواتین میں menopause کے بعد خطرہ برابر ہو جاتا ہے۔
خاندانی تاریخ اگر والدین یا بہن بھائی میں دل کی بیماری ہو تو خطرہ 50 سے 80 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ نسل کے لحاظ سے افریقی، جنوبی ایشیائی اور مقامی امریکی آبادی میں یہ امراض زیادہ عام ہیں۔
طرز زندگی سے متعلق وجوہات
غذائی عادات
تحقیقی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غلط خوراک دل کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ زیادہ نمک کا استعمال بلڈ پریشر بڑھاتا ہے جبکہ سیر شدہ چربی (Saturated Fats) LDL کولیسٹرول میں اضافہ کرتی ہے۔
| غذا | اثرات |
|---|---|
| زیادہ نمک | بلڈ پریشر بڑھاتا ہے |
| سیر شدہ چربی | LDL کولیسٹرول میں اضافہ |
| ٹرانس فیٹس | شریانوں میں رکاوٹ |
| پروسیسڈ فوڈ | سوزش اور وزن میں اضافہ |
| زیادہ شکر | ذیابیطس کا خطرہ |
| ریڈ میٹ | کولیسٹرول اور سوزش |
ٹرانس فیٹس جو ڈبہ بند اور فاسٹ فوڈ میں پائی جاتی ہیں، شریانوں میں سخت رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ پروسیسڈ فوڈ نہ صرف جسم میں سوزش بڑھاتا ہے بلکہ وزن میں اضافے کا بھی باعث بنتا ہے۔ زیادہ شکر ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتی ہے اور ریڈ میٹ کا زیادہ استعمال کولیسٹرول اور جسم میں سوزش دونوں کو بڑھاتا ہے۔
جسمانی غیر فعالیت
یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی تحقیق کے مطابق بیٹھے رہنے والے افراد میں دل کی بیماری کا خطرہ 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ جسمانی سستی سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور میٹابولزم کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ یہ کیفیت انسولین ریزسٹنس پیدا کرتی ہے اور خون میں چربی جمع ہونے لگتی ہے۔
ذہنی تناؤ
مسلسل stress کورٹیسول ہارمون بڑھاتا ہے جو بلڈ پریشر اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔ کام کا دباؤ، مالی مسائل، تعلقات میں تنازعات اور نیند کی کمی، یہ سب تناؤ کی مختلف اقسام ہیں جو دل کی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔
نیند کی کمی
ماہرین کے مطابق 7 گھنٹے سے کم نیند دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ کافی نیند نہ لینے سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے، میٹابولک عوارض پیدا ہوتے ہیں، وزن بڑھتا ہے اور جسم میں سوزش کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
میٹابولک عوارض
میٹابولک سنڈروم
یہ کئی کیفیات کا مجموعہ ہے جن میں شکمی موٹاپا (مردوں میں کمر کا طواف 40 انچ، خواتین میں 35 انچ سے زیادہ)، بلند Triglycerides (150 mg/dL سے زیادہ)، کم HDL (مردوں میں 40، خواتین میں 50 mg/dL سے کم)، ہائی بلڈ پریشر (130/85 mmHg سے زیادہ) اور بلند فاسٹنگ شوگر (100 mg/dL سے زیادہ) شامل ہیں۔
طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے 3 یا زیادہ علامات موجود ہوں تو دل کی بیماری کا خطرہ 5 گنا بڑھ جاتا ہے۔
انسولین ریزسٹنس
یہ وہ کیفیت ہے جب جسم انسولین کا صحیح جواب نہیں دیتا۔ تحقیقی مطالعات بتاتے ہیں کہ یہ Type 2 ذیابیطس اور دل کی بیماریوں دونوں کی طرف لے جاتی ہے۔ جسم میں شوگر کا صحیح استعمال نہیں ہو پاتا اور خون میں اس کی سطح بڑھتی رہتی ہے۔
سوزش اور انفیکشن
دائمی سوزش (Chronic Inflammation)
حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ جسم میں مسلسل سوزش Atherosclerosis یعنی شریانوں میں تختیاں بننے کا باعث بنتی ہے۔ C-Reactive Protein (CRP) جب 3 mg/L سے زیادہ ہو، Interleukin-6 کی بلند سطح اور دائمی انفیکشن، یہ سب سوزش کے اشارے ہیں۔
مسوڑھوں کی بیماری
Periodontitis اور دل کی بیماری میں تعلق طبی طور پر ثابت ہو چکا ہے۔ منہ کے بیکٹیریا خون میں داخل ہو کر شریانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ منہ کی صفائی نہ صرف دانتوں بلکہ دل کی حفاظت کے لیے بھی ضروری ہے۔
ماحولیاتی عوامل
فضائی آلودگی
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق آلودہ ہوا دل کی بیماریوں میں 24 فیصد کردار ادا کرتی ہے۔ PM 2.5 یعنی وہ باریک ذرات جو پھیپھڑوں میں داخل ہوتے ہیں، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جو گاڑیوں کے دھویں میں ہوتی ہے، اور کاربن مونو آکسائیڈ جو آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالتی ہے، یہ سب نقصان دہ عناصر ہیں۔
شور کی آلودگی
مسلسل شور stress ہارمونز بڑھاتا ہے۔ تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 65 ڈیسیبل سے زیادہ آواز میں مسلسل رہنا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ادویات اور مادوں کا استعمال
غیر محفوظ ادویات
کچھ دوائیں دل کو متاثر کرتی ہیں۔ NSAIDs یعنی درد کش ادویات کا طویل استعمال بلڈ پریشر بڑھاتا ہے۔ Steroids وزن اور شوگر میں اضافہ کرتے ہیں۔ کچھ کیموتھراپی کی ادویات دل کے پٹھوں کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہیں۔
منشیات
کوکین اور میتھ ایمفیٹامین جیسی منشیات دل کی دھڑکن خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہیں اور شریانوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ مادے فوری ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتے ہیں۔
الکوحل کا زیادہ استعمال
اعتدال سے زیادہ شراب نوشی بلڈ پریشر بڑھاتی ہے، Triglycerides میں اضافہ کرتی ہے اور دل کے پٹھوں کو کمزور کرتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ مسلسل زیادہ استعمال سے Cardiomyopathy نامی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
خواتین میں خصوصی وجوہات
حمل سے متعلق عوارض
Gestational Diabetes اور Preeclampsia بعد میں دل کی بیماری کا خطرہ 2 گنا بڑھا دیتے ہیں۔ طبی شواہد بتاتے ہیں کہ حمل کے دوران یہ مسائل رکھنے والی خواتین کو زندگی بھر خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہارمونل تبدیلیاں
Menopause کے بعد estrogen ہارمون کی سطح گرنے سے LDL کولیسٹرول بڑھتا ہے، HDL کولیسٹرول گرتا ہے اور شریانوں کی قدرتی لچک کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ menopause کے بعد خواتین میں دل کی بیماریوں کی شرح تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔
حمل سے بچاؤ کی گولیاں
زیادہ estrogen والی گولیاں خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھاتی ہیں، خاص طور پر اگر خاتون تمباکو نوشی بھی کرتی ہو۔ طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ایسی خواتین کو باقاعدہ طبی نگرانی ضروری ہے۔
بچاؤ کے عمومی اقدامات
صحت مند خوراک
Mediterranean Diet کو دل کی صحت کے لیے سب سے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں زیتون کے تیل سے غیر سیر شدہ چربی ملتی ہے، مچھلی سے Omega-3 fatty acids حاصل ہوتے ہیں، سارا اناج فائبر فراہم کرتا ہے، میوے اور بیج صحت مند چربی دیتے ہیں اور پھل و سبزیاں antioxidants سے بھرپور ہوتی ہیں۔
باقاعدہ ورزش
طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہفتے میں 150 منٹ متوسط شدت کی سرگرمی یا 75 منٹ تیز ورزش ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہفتے میں 2 دن قوت کی مشقیں بھی کرنی چاہیے۔
تناؤ کا انتظام
مراقبہ اور یوگا، گہری سانس لینے کی مشقیں، سماجی روابط کو مضبوط رکھنا اور شوق و تفریح کے لیے وقت نکالنا، یہ سب تناؤ کم کرنے کے مؤثر طریقے ہیں۔
باقاعدہ طبی جانچ
20 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ہر 2 سال بعد بلڈ پریشر اور ہر 4 سے 6 سال بعد کولیسٹرول چیک کرانا چاہیے۔ 45 سال سے زیادہ مردوں اور 55 سال سے زیادہ خواتین کو سالانہ ECG کی ضرورت ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو ہر 3 ماہ بعد HbA1c ٹیسٹ لازمی کرانا چاہیے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: دل کی بیماری کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ جواب: کورونری آرٹری ڈیزیز سب سے عام ہے۔ تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس اہم خطرے کے عوامل ہیں۔
سوال: کیا خاندانی تاریخ بدلی جا سکتی ہے؟ جواب: خاندانی تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی لیکن صحت مند طرز زندگی اپنا کر خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
سوال: موٹاپا دل کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ جواب: زیادہ وزن بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور شریانوں میں چربی جمع ہوتی ہے۔
سوال: کولیسٹرول کی نارمل سطح کیا ہے؟ جواب: کل کولیسٹرول 200 mg/dL سے کم، LDL 100 سے کم، اور HDL مردوں میں 40، خواتین میں 50 mg/dL سے زیادہ ہونا چاہیے۔
سوال: دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے کیا کھائیں؟ جواب: مچھلی، میوے، سارا اناج، پھل، سبزیاں اور زیتون کا تیل استعمال کریں۔ پروسیسڈ فوڈ، ریڈ میٹ اور زیادہ نمک سے پرہیز کریں۔
سوال: تناؤ دل کو کتنا نقصان پہنچاتا ہے؟ جواب: مسلسل تناؤ بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، سوزش کا باعث بنتا ہے اور دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی لا سکتا ہے۔ یہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ 40 فیصد بڑھا دیتا ہے۔
سوال: کیا نوجوانوں میں بھی دل کی بیماری ہو سکتی ہے؟ جواب: جی ہاں۔ موٹاپا، ناقص خوراک، تمباکو نوشی اور خاندانی