ایک نظر میں (AT A GLANCE)
بلڈ پریشر خون کی شریانوں پر دباؤ کی پیمائش ہے جو دل کی دھڑکن سے پیدا ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 128 کروڑ بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ یہ کیفیت دل کی بیماریوں، فالج اور گردوں کی خرابی کا بڑا خطرہ بنتی ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اکثر مریضوں میں ابتدائی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ باقاعدہ جانچ اور صحت مند طرز زندگی سے خطرات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
بلڈ پریشر کی بنیادی تعریف
بلڈ پریشر وہ قوت ہے جو خون شریانوں کی دیواروں پر ڈالتا ہے۔ دل جب سکڑتا ہے تو خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے۔ یہ عمل مسلسل دباؤ پیدا کرتا ہے جسے millimeters of mercury (mmHg) میں ناپا جاتا ہے۔
دو اہم اقسام
بلڈ پریشر کی پیمائش دو عدد پر مشتمل ہوتی ہے:
- Systolic Pressure (سکڑاؤ والا دباؤ) — دل کے سکڑنے کے وقت شریانوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ
- Diastolic Pressure (پھیلاؤ والا دباؤ) — دل کے آرام کے وقت شریانوں میں کم از کم دباؤ
طبی ماہرین کے مطابق 120/80 mmHg کو نارمل سطح سمجھا جاتا ہے۔
بلڈ پریشر کی درجہ بندی
معیاری حدود
عالمی طبی ادارے مختلف سطحوں کی یوں تقسیم کرتے ہیں:
| زمرہ | Systolic (mmHg) | Diastolic (mmHg) |
|---|---|---|
| نارمل | 120 سے کم | 80 سے کم |
| بلند (Elevated) | 120-129 | 80 سے کم |
| ہائی اسٹیج 1 | 130-139 | 80-89 |
| ہائی اسٹیج 2 | 140 یا زیادہ | 90 یا زیادہ |
| ہائپر ٹینشن کرائسز | 180 سے زیادہ | 120 سے زیادہ |
لو بلڈ پریشر
90/60 mmHg سے کم ریڈنگ کو Hypotension کہا جاتا ہے۔ تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ کیفیت بھی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کی علامات
خاموش مرض کی نوعیت
طبی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر مریضوں میں کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں۔ اسی وجہ سے اسے “خاموش قاتل” (Silent Killer) بھی کہا جاتا ہے۔
ممکنہ اشارے
جب بلڈ پریشر انتہائی بلند ہو تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
- سر میں شدید درد
- سینے میں تکلیف یا دباؤ
- نظر کا دھندلا پن
- سانس لینے میں دشواری
- ناک سے خون آنا
- چکر آنا یا بے ہوشی
- کانوں میں آواز (Tinnitus)
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تحقیق: “ہائی بلڈ پریشر والے 50 فیصد مریضوں کو اپنی کیفیت کا علم نہیں ہوتا۔”
لو بلڈ پریشر کی علامات
کم بلڈ پریشر میں جسم کے اہم اعضا کو کافی آکسیجن نہیں ملتی۔ عام علامات میں شامل ہیں:
- مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری
- متلی یا قے کا احساس
- جلد کا پیلا پن یا ٹھنڈا ہونا
- ارتکاز میں کمی
- کھڑے ہونے پر چکر
صحت پر سنگین اثرات
دل اور شریانوں کو نقصان
ماہرین قلب کے مطابق مسلسل ہائی بلڈ پریشر شریانوں کی دیواروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ عمل رگوں میں چربی جمع ہونے کا باعث بنتا ہے۔
نتائج:
- کورونری آرٹری ڈیزیز — دل کو خون کی فراہمی میں رکاوٹ
- دل کا دورہ (Heart Attack) — دل کے پٹھوں کو شدید نقصان
- دل کی ناکامی (Heart Failure) — دل کی پمپنگ صلاحیت کا کمزور ہونا
دماغی اثرات
تحقیقی مطالعات ثابت کرتے ہیں کہ بے قابو ہائی بلڈ پریشر فالج (Stroke) کا بڑا خطرہ ہے۔
اقسام:
- Ischemic Stroke — دماغ میں خون کی رسد رکنا
- Hemorrhagic Stroke — دماغ میں خون کی رگ پھٹنا
گردوں پر اثرات
گردے خون کو صاف کرنے کا کام کرتے ہیں۔ زیادہ دباؤ سے یہ اعضا متاثر ہوتے ہیں:
- Chronic Kidney Disease — گردوں کی دیرپا خرابی
- Kidney Failure — مکمل ناکامی جس میں Dialysis ضروری ہو
آنکھوں کی صحت
Hypertensive Retinopathy نامی کیفیت میں آنکھ کی باریک رگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ شدید صورتوں میں بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
خطرے کے بڑے عوامل
قابل تبدیلی عوامل
طبی تحقیق کے مطابق یہ عوامل قابو میں لائے جا سکتے ہیں:
| عامل | تفصیل |
|---|---|
| زیادہ نمک | روزانہ 5 گرام سے زیادہ استعمال |
| جسمانی سستی | ہفتے میں 150 منٹ سے کم سرگرمی |
| موٹاپا | BMI 30 سے زیادہ |
| تمباکو نوشی | کسی بھی شکل میں استعمال |
| الکوحل | اعتدال سے زیادہ مقدار |
| ذہنی دباؤ | مسلسل تناؤ کی کیفیت |
غیر قابل تبدیلی عوامل
کچھ عوامل قدرتی ہیں:
- عمر — 65 سال سے زیادہ افراد میں خطرہ بڑھتا ہے
- خاندانی تاریخ — والدین یا بہن بھائی میں کیفیت
- نسل — افریقی نژاد افراد میں زیادہ عام
- جنس — 65 سال تک مردوں میں زیادہ، بعد میں خواتین میں
تشخیص کے طریقے
گھر پر پیمائش
Sphygmomanometer (بلڈ پریشر ماپنے کا آلہ) استعمال کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں:
- صبح اور شام ایک ہی وقت پر ناپیں
- پیمائش سے 30 منٹ پہلے کیفین سے پرہیز
- 5 منٹ آرام کے بعد ریڈنگ لیں
کلینیکل جانچ
ہسپتالوں میں اضافی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
- Ambulatory BP Monitoring — 24 گھنٹے مسلسل پیمائش
- Blood Tests — گردوں اور دیگر اعضا کی جانچ
- ECG — دل کی برقی سرگرمی
- Echocardiogram — دل کی ساخت کا الٹرا ساؤنڈ
بچاؤ کے اقدامات
طرز زندگی میں تبدیلیاں
تحقیقی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اقدامات مؤثر ہیں:
DASH Diet (Dietary Approaches to Stop Hypertension):
- پھل اور سبزیاں — روزانہ 4-5 حصے
- سارا اناج — بھورا چاول، جو
- کم چربی والی ڈیری
- گری دار میوے — ہفتے میں 4-5 بار
جسمانی سرگرمی:
- ہفتے میں کم از کم 150 منٹ
- Aerobic ورزش — تیز چلنا، سائیکلنگ
- Resistance Training — ہفتے میں 2 دن
طبی نگرانی
ماہرین کی رہنمائی میں:
- باقاعدہ چیک اپ
- تجویز کردہ ادویات کا استعمال
- وزن پر کنٹرول
- تناؤ کا انتظام — مراقبہ، یوگا
خصوصی آبادی میں خطرات
حاملہ خواتین
Gestational Hypertension حمل کے دوران بلڈ پریشر بڑھنے کی کیفیت ہے۔ سنگین صورت Preeclampsia کہلاتی ہے جو ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
بچے اور نوجوان
حالیہ مطالعات بتاتے ہیں کہ بچوں میں موٹاپے کی وجہ سے یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ والدین کو باقاعدہ جانچ کرانی چاہیے۔
بزرگ افراد
60 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں Isolated Systolic Hypertension عام ہے۔ اس میں صرف اوپر والا نمبر بلند ہوتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: بلڈ پریشر کی نارمل ریڈنگ کیا ہے؟ جواب: طبی معیار کے مطابق 120/80 mmHg سے کم ریڈنگ نارمل سمجھی جاتی ہے۔ یہ سطح صحت مند بالغ افراد کے لیے مثالی ہے۔
سوال: ہائی بلڈ پریشر کی کیا علامات ہوتی ہیں؟ جواب: زیادہ تر مریضوں میں کوئی علامات نہیں ہوتیں۔ انتہائی بلند ہونے پر سر درد، سینے میں درد اور نظر کا دھندلا پن ہو سکتا ہے۔
سوال: بلڈ پریشر کتنی بار ناپنا چاہیے؟ جواب: صحت مند افراد سال میں ایک بار چیک کرائیں۔ ہائی رسک والے یا مریض افراد کو ہفتے میں کئی بار ماپنا چاہیے۔
سوال: کیا لو بلڈ پریشر خطرناک ہے؟ جواب: 90/60 mmHg سے کم سطح تشویش ناک ہو سکتی ہے۔ چکر، تھکاوٹ اور بے ہوشی جیسی علامات پر فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔
سوال: بلڈ پریشر میں کمی کے قدرتی طریقے کیا ہیں؟ جواب: نمک کم کریں، باقاعدہ ورزش، وزن کم کریں، تمباکو نوشی ترک کریں اور ذہنی تناؤ کا انتظام کریں۔
سوال: بلڈ پریشر بڑھنے کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟ جواب: زیادہ نمک، موٹاپا، جسمانی سستی، تمباکو نوشی، شراب نوشی اور مسلسل ذہنی دباؤ اہم عوامل ہیں۔ خاندانی تاریخ اور عمر بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
سوال: کیا نوجوانوں میں بھی بلڈ پریشر ہو سکتا ہے؟ جواب: جی ہاں۔ موٹاپا، ناقص خوراک اور ورزش کی کمی سے بچوں اور