ایک نظر میں
- کولیسٹرول جسم میں پایا جانے والا ایک مومی مادہ ہے جو خلیات کی تیاری اور ہارمونز کے لیے ناگزیر ہے۔
- انسانی جسم میں 70 فیصد کولیسٹرول جگر خود تیار کرتا ہے، جبکہ 30 فیصد خوراک کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
- اس کی غیر متوازن مقدار خون کی شریانوں کو تنگ کر کے ہارٹ اٹیک اور فالج کا سبب بن سکتی ہے۔
- طبی ماہرین کے مطابق صحت مند طرز زندگی اور متوازن غذا کے ذریعے اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔
- مستقبل میں بیماریوں سے بچنے کے لیے 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو سالانہ معائنہ کروانا چاہیے۔
انسانی صحت اور کولیسٹرول: اہمیت، خطرات اور توازن کے طریقے
کولیسٹرول ایک نرم مومی مادہ ہے جو انسانی خون میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ اگرچہ اسے عام طور پر صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، لیکن طبی نقطہ نظر سے یہ جسم کے کئی حیاتیاتی افعال کی انجام دہی کے لیے ضروری ہے۔ کولیسٹرول خلیات کی بیرونی جھلیوں کی تیاری، وٹامن ڈی کے حصول اور اہم ہارمونز (ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون) کی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
کولیسٹرول کے جسمانی افعال اور ذرائع
انسانی جسم میں کولیسٹرول کا بڑا حصہ، یعنی تقریباً 70 فیصد، جگر تیار کرتا ہے۔ بقیہ 30 فیصد ہماری روزمرہ کی غذا، خصوصاً حیوانی چکنائی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ مادہ صفرا (Bile) کی تیاری میں بھی معاون ہے، جو ہاضمے کے عمل میں چربی کو پگھلانے کا کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اعصابی نظام کی نسوں کو منظم رکھنے اور پیغام رسانی کے عمل کو سہل بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
شریانوں کی صحت اور کولیسٹرول کی اقسام
طبی ماہرین کولیسٹرول کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں جن کا توازن خون کی گردش کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی طبی معیارات کے مطابق ان کے افعال درج ذیل ہیں:
کولیسٹرول کی اقسام کا موازنہ
| قسم | طبی نام | صحت پر اثر | کام کا طریقہ |
|---|---|---|---|
| ایچ ڈی ایل (HDL) | ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین | “اچھا” کولیسٹرول | یہ شریانوں سے اضافی چکنائی سمیٹ کر جگر تک پہنچاتا ہے۔ |
| ایل ڈی ایل (LDL) | لو ڈینسٹی لیپو پروٹین | “برا” کولیسٹرول | اس کی زیادتی شریانوں کی دیواروں پر جم کر انہیں تنگ کر دیتی ہے۔ |
| وی ایل ڈی ایل (VLDL) | ویری لو ڈینسٹی لیپو پروٹین | نقصان دہ | یہ بنیادی طور پر ٹرائی گلیسرائیڈز کی ترسیل کرتا ہے۔ |
جب خون میں ایل ڈی ایل کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو یہ شریانوں میں رکاوٹ (Atheroma) پیدا کرتا ہے، جس سے دل اور دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
غیر متوازن کولیسٹرول کی علامات
جسم میں کولیسٹرول کی سطح بگڑنے کی صورت میں کئی جسمانی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان علامات کو نظر انداز کرنا سنگین طبی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
- سینے میں درد: بائیں طرف بوجھ یا درد کا احساس ہونا۔
- جلدی تبدیلیاں: آنکھوں کی پلکوں کے گرد پیلے رنگ کے چھوٹے دھبے یا دانے بننا۔
- جسمانی درجہ حرارت: ہاتھ اور پاؤں کا اکثر ٹھنڈا رہنا۔
- درد اور تھکاوٹ: ٹانگوں اور گردن کے پٹھوں میں کھچاؤ یا درد۔
- ناخنوں کی رنگت: ناخنوں کی قدرتی رنگت میں تبدیلی آنا۔
بچاؤ اور حفاظتی اقدامات: 2026 کے طبی مشورے
کولیسٹرول کو نارمل حدود میں رکھنے کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق صرف غذائی تبدیلیوں سے ایک ماہ میں کولیسٹرول کی سطح میں 50 سے 60 ملی گرام تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
صحت مند طرز زندگی کے لیے چیک لسٹ:
- متوازن غذا: ہری پتے والی سبزیوں، پھلوں (سیب، خوبانی) اور اناج کا استعمال بڑھائیں۔
- چکنائی سے پرہیز: تلی ہوئی اشیاء، بازاری پیزا، کریم اور مکھن کے استعمال میں اعتدال لائیں۔
- جسمانی سرگرمی: روزانہ 30 منٹ کی سیر یا ورزش کو معمول بنائیں۔
- وزن پر قابو: موٹاپے سے بچیں کیونکہ یہ براہ راست کولیسٹرول میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
- خشک میوہ جات: اخروٹ، کاجو اور پستے کا مناسب مقدار میں استعمال مفید ہو سکتا ہے۔
لیب ٹیسٹ اور نارمل حدود
میڈیکل سائنس کے مطابق خون میں کل کولیسٹرول کی مقدار 170 ملی گرام تک نارمل تصور کی جاتی ہے۔ 200 سے 240 تک کی مقدار کو احتیاطی زون قرار دیا جاتا ہے، تاہم ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اسے ہر صورت 200 سے نیچے رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر فیملی ہسٹری میں امراضِ قلب موجود ہوں تو کولیسٹرول کی باقاعدگی سے جانچ مزید ضروری ہو جاتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
س: کیا ہائی کولیسٹرول موروثی ہو سکتا ہے؟
ج: جی ہاں، بعض خاندانوں میں نسل در نسل کولیسٹرول زیادہ بنانے کی جینیاتی صلاحیت پائی جاتی ہے، جسے طبی زبان میں ‘فیملیئل ہائپر کولیسٹرولیمیا’ کہا جاتا ہے۔
س: کولیسٹرول کم کرنے کے لیے کون سی غذائیں بہترین ہیں؟
ج: فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے دالیں، اناج، سبزیاں، سیب اور خشک میوہ جات کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
س: کیا ادویات کے بغیر کولیسٹرول کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟
ج: طبی مطالعہ کے مطابق غذا میں تبدیلی، ورزش اور وزن کم کر کے ادویات کے بغیر بھی ایل ڈی ایل (LDL) کی سطح پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
س: نارمل کولیسٹرول لیول کتنا ہونا چاہیے؟
ج: عام طور پر 170 ملی گرام تک کی مقدار کو نارمل سمجھا جاتا ہے، جبکہ 200 ملی گرام سے اوپر کی مقدار خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
س: کیا مچھلی کا استعمال کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے مفید ہے؟
ج: جی ہاں، مچھلی میں موجود غیر سیر شدہ تیل (Unsaturated fats) دل کی صحت اور کولیسٹرول کے توازن کے لیے فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے۔