ایک نظر میں
آئس برگ A23a انٹارکٹیکا سے جدا ہونے والے سب سے بڑے آئس برگز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ 1986 میں Filchner–Ronne Ice Shelf سے الگ ہوا اور کئی دہائیوں تک سمندری فرش پر پھنسا رہا۔ 2020 کے بعد اس نے دوبارہ حرکت شروع کی اور 2025–26 میں گرم پانیوں میں داخل ہونے کے بعد بتدریج ٹوٹنے کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ سائنسی تحقیق کے لیے یہ آئس برگ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ A23a: مکمل معلومات اور حقائق
فوری جواب
آئس برگ A23a ایک بہت بڑا tabular iceberg ہے جو 1986 میں انٹارکٹیکا کی Filchner–Ronne Ice Shelf سے الگ ہوا۔ کئی دہائیوں تک یہ سمندری فرش پر پھنسا رہا، پھر آزاد ہو کر جنوبی بحر اوقیانوس کی طرف بڑھا۔ 2026 کے آغاز تک یہ اپنے اصل سائز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے اور مزید ٹوٹنے کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
آئس برگ A23a کیا ہے؟
A23a ایک میز نما (tabular) آئس برگ ہے، یعنی ایک چپٹی اور چوڑی سطح رکھنے والا برفانی تودہ جو براہ راست کسی آئس شیلف سے الگ ہوتا ہے۔ یہ 1986 میں مغربی انٹارکٹیکا میں واقع Filchner–Ronne Ice Shelf سے ٹوٹ کر الگ ہوا تھا۔
جب یہ آئس برگ پہلی بار الگ ہوا تو اس کا رقبہ تقریباً 4,000 سے 4,170 مربع کلومیٹر کے درمیان تھا، جو کئی بڑے شہروں سے زیادہ ہے۔ یہ آئس برگ کئی دہائیوں تک اپنی غیر معمولی عمر کے باعث سائنسی حلقوں کی توجہ کا مرکز رہا۔
تاریخی پس منظر
الگ ہونے کا عمل
-
سال: 1986
-
مقام: Filchner–Ronne Ice Shelf، مغربی انٹارکٹیکا
-
ابتدائی رقبہ: تقریباً 4,000 مربع کلومیٹر
جب A23a الگ ہوا، اس وقت اس پر سوویت یونین کا تحقیقی اڈہ Druzhnaya I موجود تھا، جسے بعد میں محفوظ طریقے سے منتقل کر دیا گیا۔
اہم ٹائم لائن
-
1986–2020: آئس برگ سمندری فرش پر پھنسا رہا اور Weddell Sea میں تقریباً ساکن رہا۔
-
2020: سمندری فرش سے آزاد ہوا اور آہستہ آہستہ حرکت شروع کی۔
-
2023: Antarctic Peninsula کے شمال کی طرف بڑھا اور Southern Ocean میں داخل ہوا۔
-
2024: South Orkney Islands کے قریب ایک سمندری بھنور (Taylor column) میں عارضی طور پر پھنس گیا۔
-
2025–2026: گرم پانیوں میں داخل ہونے کے بعد ٹوٹنے کے مراحل میں داخل ہوا۔
ساخت اور تشکیل
A23a صدیوں پرانی برف سے بنا ہوا تھا جو انٹارکٹیکا کی گلیشیائی حرکت کے دوران جمع ہوئی۔ اس کی موٹائی کئی سو میٹر تک تھی۔ اس کی سطح پر نظر آنے والی لکیریں اس وقت کی یادگار ہیں جب یہ برفانی تودہ زمین کی سطح پر رگڑ کھا رہا تھا۔
ٹوٹنے کا عمل
جیسے جیسے A23a نسبتاً گرم سمندری پانیوں میں داخل ہوا، اس کی سطح پر پگھلا ہوا پانی جمع ہونے لگا۔ اس پانی کے وزن نے برف میں دراڑیں پیدا کیں، جسے سائنسدان hydrofracturing کہتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں بڑے ٹکڑے آئس برگ سے الگ ہونے لگے۔
2026 کے آغاز تک مختلف سائنسی اداروں کے اندازوں کے مطابق A23a کا رقبہ کم ہو کر تقریباً 1,000 مربع کلومیٹر یا اس سے کم رہ گیا تھا، تاہم یہ عمل مسلسل جاری ہے اور حتمی سائز وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
نیلے رنگ کی برف کیوں نظر آئی؟
2025 کے آخر اور 2026 کے آغاز میں سیٹلائٹ تصاویر میں A23a کی سطح پر نیلے رنگ کے پانی کے تالاب نظر آئے۔ یہ رنگ اس بات کی علامت ہے کہ برف کی سطح پر پگھلا ہوا پانی جمع ہو رہا ہے۔ یہ ایک عام قدرتی عمل ہے جو آئس برگز کے ٹوٹنے کے آخری مراحل میں دیکھا جاتا ہے۔
سائنسی اہمیت
A23a سائنسدانوں کے لیے ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے:
-
بڑے آئس برگز کے طویل مدتی رویے کو سمجھنے کا موقع
-
سمندری دھاروں اور زیرِ آب پہاڑوں کے اثرات کا مشاہدہ
-
برف کے پگھلنے اور ٹوٹنے کے قدرتی طریقہ کار کا مطالعہ
یہ معلومات مستقبل میں انٹارکٹیکا سے الگ ہونے والے آئس برگز کے رویے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
عام غلط فہمیاں
غلط فہمی: A23a کا 1986 میں الگ ہونا موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھا۔
حقیقت: آئس شیلف سے آئس برگز کا الگ ہونا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی ایسے واقعات کی شدت اور رفتار پر اثر ڈال سکتی ہے۔
غلط فہمی: آئس برگ کے پگھلنے سے سمندر کی سطح فوراً بلند ہوتی ہے۔
حقیقت: جو آئس برگ پہلے ہی سمندر میں تیر رہا ہو، اس کے پگھلنے سے سمندر کی سطح براہ راست نہیں بڑھتی۔
اہم حقائق (خلاصہ جدول)
| پہلو | معلومات |
|---|---|
| نام | Iceberg A23a |
| قسم | Tabular Iceberg |
| الگ ہونے کا سال | 1986 |
| اصل رقبہ | ~4,000 مربع کلومیٹر |
| عمر | تقریباً 40 سال |
| موجودہ حالت | بتدریج ٹوٹنے کے مراحل میں |
| سائنسی اہمیت | بلند |
نتیجہ
آئس برگ A23a ایک غیر معمولی قدرتی مظہر ہے جس نے سائنسدانوں کو کئی دہائیوں تک مشاہدے کا موقع فراہم کیا۔ اس کا طویل سفر اور موجودہ ٹوٹنے کا عمل برفانی نظام، سمندری دھاروں، اور قطبی علاقوں کے قدرتی توازن کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔