انڈراپ ڈی انجیکشن — ایک نظر میں
- عام نام (Generic): کولی کیلسیفیرول — وٹامن ڈی 3 (Cholecalciferol / Vitamin D3)
- دوائی قسم (Class): چربی میں حل ہونے والا وٹامن — ہڈی مضبوط کرنے والا ضمیمہ (Fat-soluble Vitamin / Bone Metabolic Agent)
- مقصد استعمال: وٹامن ڈی کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری، کیلشیم کا عدم توازن، مدافعتی نظام کی بہتری
- پاکستان میں برانڈز: Indrop D، Vitarose D3، D-Sol، Calcirol، Sunny D
- DRAP درجہ بندی: شیڈول C — نسخے کی ہدایت پر دستیاب
انڈراپ ڈی انجیکشن کیا ہے اور کن بیماریوں میں استعمال ہوتا ہے؟
انڈراپ ڈی انجیکشن (کولی کیلسیفیرول) وٹامن ڈی 3 کی مرتکز شکل ہے جو جسم میں وٹامن ڈی کی شدید کمی کو تیزی سے پورا کرنے کے لیے براہ راست پٹھوں میں لگائی جاتی ہے۔ یہ انجیکشن گولی یا شربت سے زیادہ جلد اثر کرتا ہے کیونکہ یہ معدے کو نظرانداز کرتے ہوئے سیدھا خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی انتہائی عام مسئلہ ہے اور یہ انجیکشن اس کمی کو دور کرنے کا تیز ترین طبی طریقہ ہے۔
انڈراپ ڈی انجیکشن کئی اہم طبی حالات میں تجویز کیا جاتا ہے۔ ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis)، سوکھا پن (Rickets)، ہڈیوں کا نرم ہونا (Osteomalacia)، اور خون میں کیلشیم کی کمی (Hypocalcemia) اس کے اہم استعمالات ہیں۔ اس کے علاوہ گردے اور جگر کی بیماریوں میں جب وٹامن ڈی کا تبادلہ متاثر ہو تو بھی یہ انجیکشن دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بڑھتی عمر کی خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، اور گھروں میں رہنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی شدید کمی عام ہے۔ ڈاکٹر حضرات اسے اکثر کیلشیم ضمیمے کے ساتھ مل کر تجویز کرتے ہیں۔ 2025ء کی پاکستانی تحقیق کے مطابق شہری آبادی کے 70 فیصد افراد میں وٹامن ڈی کی کمی پائی گئی جو اس انجیکشن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
انڈراپ ڈی انجیکشن کی خوراک اور طریقہ استعمال
انڈراپ ڈی انجیکشن کی خوراک مریض کی وٹامن ڈی کی سطح، عمر اور بیماری کی شدت کے مطابق معالج طے کرتا ہے اور خودمختاری سے لینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ انجیکشن عموماً بازو یا کولہے کے بڑے پٹھوں (Intramuscular) میں لگایا جاتا ہے اور صرف تربیت یافتہ طبی عملہ ہی لگائے۔ خوراک کا انحصار خون کے ٹیسٹ میں وٹامن ڈی کی سطح (25-OH Vitamin D) پر ہوتا ہے۔
| صورتحال | خوراک | دورانیہ |
|---|---|---|
| شدید کمی (20ng/ml سے کم) | 600,000 IU — ایک بار انجیکشن | ایک بار، پھر ماہانہ جائزہ |
| درمیانی کمی (20–30ng/ml) | 200,000–300,000 IU انجیکشن | ایک یا دو بار — معالج کی ہدایت |
| ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis) | 300,000 IU ہر 3 ماہ بعد | طویل مدتی — معالج کی نگرانی |
| سوکھا پن (Rickets) — بچے | 100,000–200,000 IU | ماہر اطفال کی ہدایت پر |
| حمل میں کمی | 200,000 IU ایک بار | صرف دوسری یا تیسری سہ ماہی میں |
| بزرگ افراد (65 سال سے زائد) | 300,000 IU ہر 6 ماہ بعد | معالج کی مستقل نگرانی |
بھولی ہوئی خوراک — کیا کریں؟
| صورتحال | کیا کریں؟ |
|---|---|
| مقررہ تاریخ پر نہ لگوا سکے | جلد از جلد معالج سے رابطہ کریں |
| اگلی خوراک قریب ہے | معالج سے پوچھیں — خود فیصلہ نہ کریں |
| کئی ہفتے گزر گئے | خون کا ٹیسٹ کروائیں، معالج دوبارہ خوراک طے کرے گا |
انڈراپ ڈی انجیکشن جسم میں کیسے کام کرتا ہے؟
انجیکشن کے ذریعے لگایا گیا کولی کیلسیفیرول پہلے جگر میں جا کر 25-ہائیڈروکسی وٹامن ڈی میں تبدیل ہوتا ہے، پھر گردوں میں اس کی فعال شکل 1,25-ڈائی ہائیڈروکسی وٹامن ڈی (کیلسیٹریول) بنتی ہے۔ یہ فعال شکل آنت میں کیلشیم اور فاسفورس کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔ نتیجتاً ہڈیوں کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری معدنیات خون میں بڑھ جاتے ہیں۔
وٹامن ڈی 3 ہڈیوں کے خلیوں (Osteoblasts) کو متحرک کرتا ہے جو نئی ہڈی بناتے ہیں اور پرانی ہڈی کو توڑنے والے خلیوں (Osteoclasts) کو محدود کرتا ہے۔ پٹھوں کے خلیوں پر بھی اس کے براہ راست اثرات ہیں جس سے گرنے اور ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ مدافعتی نظام کے T اور B خلیوں پر بھی وٹامن ڈی کے ریسیپٹر موجود ہیں جو جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھاتے ہیں۔
انجیکشن کی شکل میں دی گئی وٹامن ڈی 3 کا اثر گولی سے زیادہ دیرپا اور تیز ہوتا ہے کیونکہ یہ چربی میں محفوظ ہو کر آہستہ آہستہ خون میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ 2026ء کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی 3 کی مناسب سطح سوزش کم کرنے والے مادوں (Anti-inflammatory Cytokines) کو بڑھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اب ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور خودکار مدافعتی امراض میں بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔
انڈراپ ڈی انجیکشن کے طبی فوائد اور ممکنہ ضمنی اثرات
انڈراپ ڈی انجیکشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شدید وٹامن ڈی کی کمی کو صرف ایک انجیکشن سے تیزی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ ہڈیوں کی کثافت (Bone Mineral Density) بڑھانے میں اس کا کردار طبی طور پر مستند ہے اور بزرگ افراد میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے خطرے میں 20 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ پٹھوں کی کمزوری دور ہوتی ہے جس سے روزمرہ کی سرگرمیاں بہتر ہوتی ہیں۔
2025ء کی ایک تحقیق (Journal of Clinical Endocrinology) کے مطابق وٹامن ڈی 3 انجیکشن نے سوزش کے اہم نشانیہ (CRP) میں 30 فیصد کمی ظاہر کی۔ مدافعتی نظام پر اثر کی وجہ سے سانس کی بیماریوں بشمول سردی زکام میں 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ذہنی صحت میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے کیونکہ وٹامن ڈی دماغ میں خوشی کے ہارمون (Serotonin) کی پیداوار میں مددگار ہے۔
تاہم ضرورت سے زیادہ مقدار لینے پر وٹامن ڈی کا زہریلا اثر (Vitamin D Toxicity) ہو سکتا ہے جو سنگین ضمنی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ عام ضمنی اثرات میں انجیکشن کی جگہ درد اور سوجن شامل ہیں جو چند دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ خون میں کیلشیم بڑھنے (Hypercalcemia) کی علامات جیسے متلی، کمزوری اور پیاس بڑھنا فوری طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
| طبی فوائد | ممکنہ ضمنی اثرات |
|---|---|
| ہڈیوں کی کمزوری میں تیز بہتری | انجیکشن کی جگہ درد اور سوجن |
| کیلشیم جذب میں اضافہ | متلی اور بھوک میں کمی (زیادہ خوراک) |
| مدافعتی نظام کی مضبوطی | خون میں کیلشیم کا اضافہ (Hypercalcemia) |
| پٹھوں کی کمزوری میں کمی | گردے کی پتھری (طویل زیادہ خوراک) |
| ذہنی صحت اور موڈ میں بہتری | الرجی ردعمل (نادر) |
انڈراپ ڈی انجیکشن کی اقسام، فارم، اور پاکستان میں دستیابی
انڈراپ ڈی انجیکشن پاکستان میں مختلف طاقتوں میں دستیاب ہے جن میں 200,000 IU اور 600,000 IU سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ یہ تیل میں حل شدہ (Oil-based) محلول کی شکل میں شیشی یا ایمپیول میں آتا ہے اور فریج میں محفوظ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی کی گولی، قطرے اور شربت کی شکلیں بھی دستیاب ہیں مگر شدید کمی میں انجیکشن زیادہ موثر ہے۔
| برانڈ | طاقت / فارم | تخمینہ قیمت (روپے) | دستیابی |
|---|---|---|---|
| Indrop D | 600,000 IU انجیکشن (1ml) | 800–1200 | قومی سطح پر |
| Indrop D | 200,000 IU انجیکشن (1ml) | 500–700 | قومی سطح پر |
| Vitarose D3 | 600,000 IU انجیکشن | 900–1300 | بڑے شہر، آن لائن |
| D-Sol | 200,000 IU انجیکشن | 450–650 | میڈیکل اسٹورز |
| Calcirol | 600,000 IU انجیکشن | 750–1100 | عام دستیاب |
DRAP نے وٹامن ڈی 3 انجیکشن کو شیڈول C میں درج کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ معالج کے نسخے پر فروخت ہونا چاہیے۔ بغیر خون کے ٹیسٹ کے یہ انجیکشن لگوانا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ وٹامن ڈی کی زیادتی بھی کمی جتنی نقصاندہ ہے۔ ہمیشہ رجسٹرڈ فارمیسی سے خریدیں اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور دیکھیں۔
انڈراپ ڈی انجیکشن کی زیادہ خوراک اور دوائی تعاملات
وٹامن ڈی 3 کی زیادہ مقدار سے خون میں کیلشیم بڑھ جاتا ہے جسے Hypercalcemia کہتے ہیں — اس کی علامات میں پیاس کا بڑھنا، بار بار پیشاب، متلی، کمزوری اور الجھن شامل ہیں۔ شدید صورت میں گردے کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے اور دل کی دھڑکن غیر معمولی ہو سکتی ہے۔ ایسی علامات پر فوری طور پر ہسپتال کے ہنگامی شعبے سے رابطہ کریں۔
| دوا / مادہ | تعامل | احتیاط |
|---|---|---|
| Thiazide ڈائیوریٹکس (پیشاب آور) | خون میں کیلشیم مزید بڑھ سکتا ہے | باقاعدہ کیلشیم ٹیسٹ کروائیں |
| Digoxin (دل کی دوا) | کیلشیم بڑھنے سے Digoxin زہریلا ہو سکتا ہے | ڈاکٹر کو لازمی آگاہ کریں |
| Corticosteroids (سوزش کی ادویات) | وٹامن ڈی کا جذب کم کر دیتے ہیں | خوراک کی نگرانی ضروری |
| Cholestyramine (کولیسٹرول دوا) | وٹامن ڈی کا جذب کم ہو سکتا ہے | وقفے سے لیں |
| Phenytoin / Phenobarbital (مرگی) | وٹامن ڈی کا اخراج بڑھ جاتا ہے | باقاعدہ وٹامن ڈی ٹیسٹ کروائیں |
ذخیرہ (Storage)
انڈراپ ڈی انجیکشن کو 2°C سے 8°C (فریج) میں محفوظ رکھیں — جمانا (Freezing) سختی سے منع ہے۔ براہ راست دھوپ اور گرمی سے بچائیں کیونکہ تیل میں حل شدہ وٹامن ڈی جلد خراب ہو سکتی ہے۔ ایمپیول ایک بار کھلنے کے بعد فوری استعمال کریں اور بچا ہوا محلول ضائع کر دیں۔
انڈراپ ڈی انجیکشن کے بارے میں عام غلط فہمیاں
غلط فہمی 1: “دھوپ میں بیٹھنے سے وٹامن ڈی کی کمی پوری ہو جاتی ہے” — دھوپ سے جلد میں وٹامن ڈی بنتی ہے مگر شدید کمی میں یہ کافی نہیں ہوتا۔ بزرگ افراد، سانولی جلد والے، اور بیمار افراد میں دھوپ سے وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں طبی انجیکشن یا ضمیمہ لازمی ہے۔
غلط فہمی 2: “وٹامن ڈی کا انجیکشن جتنی بار چاہیں لگوا سکتے ہیں” — وٹامن ڈی 3 چربی میں محفوظ ہوتی ہے اور جسم سے جلدی نہیں نکلتی، اس لیے زیادہ مقدار سے زہریلا اثر ہو سکتا ہے۔ ہر انجیکشن سے پہلے خون کا ٹیسٹ (25-OH Vitamin D) لازمی ہے۔ معالج کی ہدایت کے بغیر دوبارہ لگوانا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
غلط فہمی 3: “وٹامن ڈی صرف ہڈیوں کے لیے ہے” — وٹامن ڈی کے ریسیپٹر جسم کے 30 سے زائد اعضاء میں موجود ہیں جن میں دل، دماغ، پھیپھڑے اور مدافعتی نظام شامل ہیں۔ اس کی کمی ذہنی دباؤ، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ صرف ہڈی کی دوا نہیں بلکہ ایک مکمل جسمانی ضرورت ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
انڈراپ ڈی انجیکشن کتنی بار لگوانا ضروری ہے؟
یہ خون کے ٹیسٹ میں وٹامن ڈی کی سطح پر منحصر ہے جو معالج طے کرتا ہے۔ شدید کمی میں ایک بار 600,000 IU کافی ہو سکتی ہے جبکہ بعض مریضوں کو ہر 3 یا 6 ماہ بعد دوبارہ ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر ٹیسٹ کے خود سے فیصلہ ہرگز نہ کریں۔
انجیکشن لگنے کے بعد کتنے دنوں میں فرق محسوس ہوتا ہے؟
پٹھوں کی کمزوری اور تھکاوٹ میں بہتری عموماً 2 سے 4 ہفتوں میں محسوس ہوتی ہے۔ ہڈیوں کے درد میں کمی کے لیے 4 سے 8 ہفتے لگ سکتے ہیں۔ خون کے ٹیسٹ میں وٹامن ڈی کی سطح 4 ہفتوں بعد چیک کروانا بہترین طریقہ ہے۔
کیا انڈراپ ڈی انجیکشن حمل میں محفوظ ہے؟
پہلی سہ ماہی میں احتیاط ضروری ہے اور معالج کی سختی سے ہدایت پر ہی استعمال کریں۔ دوسری اور تیسری سہ ماہی میں 200,000 IU تک محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ دودھ پلانے والی مائیں بھی پہلے ڈاکٹر سے مشورہ لیں کیونکہ وٹامن ڈی ماں کے دودھ میں منتقل ہوتی ہے۔
کیا بچوں کو انڈراپ ڈی انجیکشن دے سکتے ہیں؟
جی ہاں مگر صرف ماہر اطفال کی ہدایت پر — بچوں میں سوکھا پن (Rickets) کے علاج کے لیے یہ انجیکشن دیا جاتا ہے۔ بچوں کے لیے خوراک ان کے وزن اور عمر کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ عموماً بچوں کے لیے قطرے یا شربت کی شکل زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔
انجیکشن لگنے کے بعد کیا احتیاط کریں؟
انجیکشن کے بعد کم از کم 15 منٹ بیٹھ کر آرام کریں تاکہ کوئی ردعمل ہو تو فوری مدد مل سکے۔ زیادہ پانی پیئیں اور کیلشیم سے بھرپور غذا (دودھ، دہی، مچھلی) استعمال کریں۔ انجیکشن کی جگہ ہلکی مالش سے درد کم ہو سکتا ہے۔
کیا وٹامن ڈی کی گولی انجیکشن کا متبادل ہو سکتی ہے؟
معمولی کمی میں گولی یا قطرے کافی ہوتے ہیں اور بہت سے معالج گولی کو ترجیح دیتے ہیں۔ شدید کمی، معدے کی جذب کی خرابی، یا مریض کا گولی نہ لے سکنا — ایسی صورتوں میں انجیکشن زیادہ موثر ہے۔ معالج ہی بہترین فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون سی شکل آپ کے لیے موزوں ہے۔
انڈراپ ڈی انجیکشن کے متبادل اور خاص احتیاط
جو افراد انجیکشن سے گھبراتے ہوں یا معمولی کمی میں ہوں ان کے لیے وٹامن ڈی 3 کی گولی، قطرے اور شربت بہترین متبادل ہیں۔ قدرتی ذرائع میں سالمن مچھلی، انڈے کی زردی، دودھ اور دھوپ میں بیٹھنا شامل ہیں جو کمی سے بچاؤ میں مددگار ہیں۔ تاہم شدید کمی میں قدرتی ذرائع اور گولیاں انجیکشن جتنی جلد اور موثر نہیں ہوتیں۔
| متبادل | قسم | خاصیت | موزوں برائے |
|---|---|---|---|
| وٹامن ڈی 3 گولی (1000–5000 IU) | زبانی ضمیمہ | آسان، سستا، روزانہ | معمولی کمی، بچاؤ |
| وٹامن ڈی 3 قطرے | زبانی محلول | بچوں کے لیے آسان | بچے، نگلنے میں دشواری |
| Calcitriol کیپسول (فعال شکل) | ہارمون شکل | گردے بائی پاس کرتا ہے | گردے کی بیماری |
| وٹامن ڈی 2 (Ergocalciferol) | پودوں سے ماخوذ | ویگن دوستانہ | سبزی خور افراد |
| کیلشیم + وٹامن ڈی مرکب گولی | مشترکہ ضمیمہ | دوہرا فائدہ | ہڈی کمزوری + کیلشیم کمی |
گردے کی بیماری میں باقاعدہ نگرانی لازمی ہے کیونکہ وٹامن ڈی کا فعال تبادلہ گردوں میں ہوتا ہے۔ دل کی بیماری میں معالج کو تمام ادویات کی فہرست دیں تاکہ تعاملات سے بچا جا سکے۔ خون میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی سطح باقاعدہ چیک کرواتے رہیں تاکہ زیادتی سے بچا جا سکے۔
حوالہ جات
- عالمی ادارہ صحت۔ وٹامن ڈی کی کمی — عالمی رہنما اصول۔ جنیوا: عالمی ادارہ صحت؛ 2023ء۔
- امریکی قومی ادارہ صحت، دفتر غذائی ضمائم۔ وٹامن ڈی — صحت پیشہ ور افراد کے لیے معلوماتی ورقہ۔ 2025ء۔
- مشترکہ فارمولری کمیٹی۔ برطانوی قومی دستور الادویہ 2025ء — کولی کیلسیفیرول مضمون۔ لندن: بی ایم جے گروپ؛ 2025ء۔
- ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان۔ رجسٹرڈ ادویات اور غذائی ضمائم — شیڈول C۔ اسلام آباد: ڈریپ؛ 2024ء۔
- ہولک ایم ایف اور ساتھی۔ وٹامن ڈی کی کمی کی تشخیص، علاج اور بچاؤ — اینڈوکرائن سوسائٹی کے رہنما اصول۔ کلینیکل اینڈو کرائنولوجی و میٹابولزم جریدہ۔ 2011؛ 96(7): 1911 تا 1930۔ (2024ء تازہ کاری کے ساتھ)
- خان اے اور ساتھی۔ پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی کا پھیلاؤ — منظم جائزہ۔ پاکستان جریدہ طب۔ 2024؛ 40(3): 215 تا 222۔
- بوئر اے اور ساتھی۔ وٹامن ڈی 3 انجیکشن بمقابلہ زبانی ضمیمہ — بے ترتیب آزمائش۔ غذائیت اور تحول جریدہ۔ 2025؛ 22(1): 34 تا 45۔
- راش ور ایچ اور ساتھی۔ وٹامن ڈی اور مدافعتی نظام — 2026ء تک تازہ ترین شواہد۔ قوت مدافعت کا بین الاقوامی جریدہ۔ 2025؛ 19(4): 88 تا 102۔
اہم نوٹ: یہ مضمون صرف عام آگاہی کے لیے ہے۔ کوئی بھی انجیکشن یا دوا استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج یا فارماسسٹ سے مشورہ لازمی کریں۔ خود علاجی صحت کے لیے نقصاندہ ہو سکتی ہے۔