موٹاپا کیا ہے-یہ کیسے صحت کو متاثر کرتا ہے؟

ایک نظر میں

نکتہ تفصیل
موضوع کیا ہے موٹاپا ایک طبی حالت ہے جس میں جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جاتی ہے
کیوں اہم ہے یہ دل، گردے، جوڑوں اور ذہنی صحت سمیت درجنوں بیماریوں کی بنیاد بنتا ہے
بنیادی تصور BMI کی حد 30 سے زیادہ ہونا موٹاپے کی طبی تعریف ہے
عملی اثرات پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ جو عوامی صحت پر گہرا بوجھ ڈال رہا ہے
اہم نکتہ موٹاپا محض وزن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہے

تعارف

موٹاپا آج کے دور میں دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ایک طبی حالت ہے۔ اسے محض جسمانی ظاہری شکل کا معاملہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ یہ جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کرتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ایک ارب سے زیادہ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔

پاکستان میں یہ مسئلہ خاص طور پر شہری آبادی میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ غذائی عادات میں تبدیلی، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا براہِ راست تعلق موٹاپے سے جوڑا جاتا ہے۔

اس مضمون میں موٹاپے کی طبی تعریف، اس کے صحت پر اثرات، اور پاکستانی تناظر میں اس کی اہمیت کو سائنسی اور واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔


موٹاپا کیا ہے؟ بنیادی تصور کی وضاحت

موٹاپا اس حالت کو کہتے ہیں جب جسم میں چربی اس مقدار تک جمع ہو جائے کہ وہ صحت کے لیے خطرے کا باعث بنے۔ اسے ناپنے کا سب سے عام پیمانہ باڈی ماس انڈیکس یعنی BMI ہے، جو وزن کو قد کے مربع سے تقسیم کر کے نکالا جاتا ہے۔

BMI کی درجہ بندی

BMI کی حد زمرہ
18.5 سے کم کم وزن
18.5 – 24.9 معمول کا وزن
25.0 – 29.9 زیادہ وزن
30.0 – 34.9 موٹاپا (درجہ اول)
35.0 – 39.9 موٹاپا (درجہ دوم)
40 اور اس سے زیادہ انتہائی موٹاپا (درجہ سوم)

تاہم BMI کے علاوہ کمر کا گھیراؤ بھی ایک اہم پیمانہ ہے۔ مردوں میں کمر کا گھیراؤ 40 انچ یا اس سے زیادہ، اور خواتین میں 35 انچ یا زیادہ صحت کے خطرات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی آبادی کے لیے یہ حدیں مزید کم ہیں کیونکہ ہمارے جسم کی ساخت مغربی اقوام سے مختلف ہے۔

موٹاپے کی وجوہات میں صرف زیادہ کھانا شامل نہیں۔ جینیاتی عوامل، ہارمونل عدم توازن، نیند کی کمی، بعض دوائیں، اور سماجی و اقتصادی حالات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


موٹاپا صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

موٹاپے کے اثرات جسم کے مختلف نظاموں پر مختلف طریقوں سے پڑتے ہیں۔ درج ذیل میں ان کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے:

۱۔ قلبی نظام پر اثرات

موٹاپے میں جسم میں اضافی چربی خون کی نالیوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے ایتھروسکلیروسس یعنی شریانوں کے سکڑنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل پر کام کا بوجھ غیر معمولی حد تک زیادہ ہو جاتا ہے۔ تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ موٹاپے کے شکار افراد میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ معمول کے وزن والے افراد کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

۲۔ ذیابیطس ٹائپ ٹو

جسم میں اضافی چربی، خاص طور پر پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی، انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی ہے۔ اس حالت میں لبلبہ کافی مقدار میں انسولین بناتا ہے لیکن جسم اسے استعمال نہیں کر پاتا۔ وقت کے ساتھ لبلبہ تھک جاتا ہے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے تقریباً 33 ملین مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق اضافی وزن سے ہے۔

۳۔ جوڑوں اور ہڈیوں پر اثر

اضافی وزن جوڑوں پر، خاص طور پر گھٹنوں، کولہوں اور کمر پر، غیر معمولی دباؤ ڈالتا ہے۔ ایک کلوگرام اضافی وزن گھٹنوں پر چار کلوگرام تک دباؤ ڈالتا ہے۔ اس سے آسٹیو آرتھرائٹس یعنی جوڑوں کی ٹوٹ پھوٹ تیز ہو جاتی ہے۔ درد، سوجن اور حرکت کی محدودیت عام شکایات بن جاتی ہیں جو روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔

۴۔ نظامِ تنفس اور نیند میں خلل

موٹاپے میں گردن اور سینے کے گرد جمع چربی سانس کی نالی کو تنگ کرتی ہے۔ اس سے سلیپ ایپنیا یعنی نیند میں سانس کا رک جانا ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے۔ سونے کے دوران سانس بار بار رکنے سے نیند کا معیار خراب ہوتا ہے، تھکاوٹ رہتی ہے، اور دن میں توجہ کا مرکوز رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دمہ کی علامات بھی موٹاپے میں زیادہ شدید ہو جاتی ہیں۔

۵۔ جگر اور نظامِ انہضام

موٹاپا نان الکوہلک فیٹی لیور ڈیزیز یعنی جگر میں چربی جمع ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جگر میں چربی کا ذخیرہ بڑھنے سے سوزش شروع ہوتی ہے اور بغیر علاج کے یہ جگر کے سرطان یا گردن کی ناکامی تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ معدے کی تیزابیت، پتے کی پتھری، اور آنتوں کی سوزش بھی موٹاپے میں زیادہ ہوتی ہے۔

۶۔ سرطان کا خطرہ

عالمی ادارۂ صحت اور کینسر ریسرچ سنٹرز کے مطابق موٹاپا کم از کم تیرہ اقسام کے سرطان کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ان میں چھاتی کا سرطان، بڑی آنت کا سرطان، بچہ دانی کا سرطان، اور گردے کا سرطان نمایاں ہیں۔ اضافی چربی جسم میں سوزش کا ماحول برقرار رکھتی ہے جو خلیوں کی غیر معمولی نشوونما کا سبب بنتی ہے۔

۷۔ ذہنی صحت پر اثرات

موٹاپے اور ذہنی صحت کا تعلق دو طرفہ ہے۔ ایک طرف ڈپریشن اور پریشانی وزن بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، اور دوسری طرف موٹاپا ڈپریشن اور خود اعتمادی کی کمی کو جنم دیتا ہے۔ سماجی تعصب، کام کے مواقع میں کمی، اور جسمانی تکالیف مل کر ذہنی دباؤ کو بڑھاتے ہیں۔

۸۔ گردوں پر اثر

موٹاپا کرونک کڈنی ڈیزیز یعنی گردوں کی دائمی بیماری کا ایک اہم سبب ہے۔ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے ذریعے موٹاپا گردوں کی فلٹریشن صلاحیت کو آہستہ آہستہ کم کرتا ہے۔ گردوں کی ناکامی ایک سنگین اور مہنگی بیماری ہے جو پاکستان میں ڈائیلیسس مراکز پر بہت بڑا بوجھ ڈال رہی ہے۔


موٹاپے کے اثرات: خلاصہ جدول

جسمانی نظام بنیادی خطرہ شدت
قلبی نظام ہائی بلڈ پریشر، دل کا دورہ بہت زیادہ
میٹابولک ذیابیطس ٹائپ ٹو بہت زیادہ
جوڑ اور ہڈیاں آسٹیو آرتھرائٹس زیادہ
نظامِ تنفس سلیپ ایپنیا، دمہ زیادہ
جگر فیٹی لیور بیماری متوسط تا زیادہ
سرطان متعدد اقسام متوسط
ذہنی صحت ڈپریشن، اضطراب زیادہ
گردے دائمی گردے کی بیماری متوسط تا زیادہ

موٹاپے کو سمجھنے کے فوائد اور اس کے علاج کی حدود

موٹاپے کو بطور بیماری تسلیم کرنے کے فوائد

موٹاپے کو ایک طبی بیماری ماننے سے اس کے علاج کی راہیں کھلتی ہیں۔ صرف “کم کھاؤ زیادہ چلو” کی بجائے ہارمونل، جینیاتی اور نفسیاتی عوامل پر توجہ دی جاتی ہے۔ علاج کی جدید ادویات اور جراحی کے طریقے موجود ہیں جو طبی نگرانی میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں مریض پر سماجی الزام بھی کم ہوتا ہے۔

موٹاپے کے علاج کی حدود

علاج کے باوجود موٹاپے کی دوبارہ واپسی ایک بڑا چیلنج ہے۔ وزن میں کمی کے بعد جسم ہارمونی تبدیلیوں کے ذریعے دوبارہ وزن بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ طویل مدتی وزن برقرار رکھنا ایک مسلسل کوشش کا متقاضی ہے۔ بیریاٹرک سرجری جیسے طریقے مہنگے ہیں اور پاکستان میں ہر جگہ دستیاب نہیں۔


پاکستان میں موٹاپے کی صورتحال اور اہمیت

پاکستان میں موٹاپا ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت بحران ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں بالغ شہری آبادی میں زیادہ وزن اور موٹاپے کی مجموعی شرح 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ کراچی، لاہور، اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں یہ شرح مزید زیادہ ہے۔

پاکستانی معاشرے میں چند خاص عوامل موٹاپے کو فروغ دے رہے ہیں۔ میٹھے مشروبات اور تلی ہوئی اشیا کا بکثرت استعمال، دفتری کام کی وجہ سے بیٹھنے کا دورانیہ بڑھنا، اور فاسٹ فوڈ ثقافت کا پھیلاؤ بنیادی وجوہات ہیں۔ خواتین میں شادی کے بعد طرزِ زندگی کی تبدیلی اور جسمانی سرگرمیوں تک محدود رسائی بھی موٹاپے کی ایک اہم وجہ ہے۔

پاکستان میں طبی نقطہ نظر سے موٹاپا ذیابیطس کے بعد دوسری بڑی طبی گفتگو بن گیا ہے۔ دوسری طرف، موٹاپے پر قابو پانے کے لیے ملک میں خوراک اور صحت کی پالیسیوں کی کمزوری بھی واضح ہے۔ سکول کی سطح پر غذائی تعلیم، عوامی مقامات پر جسمانی سرگرمیوں کے مواقع، اور سستی صحت بخش خوراک کی دستیابی ابھی بھی چیلنج ہیں۔


عام غلط فہمیاں

غلط فہمی نمبر ایک: موٹاپا صرف زیادہ کھانے کا نتیجہ ہے

یہ ایک بہت سادہ اور ناقص وضاحت ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ہائپو تھائرائیڈزم، پولی سسٹک اووری سنڈروم، کشنگ سنڈروم، اور بعض دوائیں جیسے اینٹی ڈپریسنٹس بھی وزن بڑھاتی ہیں۔ جینیاتی عوامل 40 سے 70 فیصد تک وزن کے رجحان کو متاثر کرتے ہیں۔

غلط فہمی نمبر دو: موٹے شخص کا کم فعال یا سست ہونا لازمی ہے

بہت سے موٹاپے کے شکار افراد متحرک زندگی گزارتے ہیں لیکن ہارمونی یا طبی وجوہات کی بنا پر وزن کم نہیں کر پاتے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے مریض کو ملامت کی جاتی ہے جو طبی مدد لینے سے روکتی ہے۔

غلط فہمی نمبر تین: تھوڑا موٹاپا صحت کے لیے نقصاندہ نہیں

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہلکا پھلکا موٹاپا کوئی مسئلہ نہیں۔ تاہم BMI 30 سے اوپر جانے پر ہی دل کی بیماری، ذیابیطس اور جوڑوں کی تکالیف کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے پر توجہ دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

غلط فہمی نمبر چار: وزن کم کرنا ہمیشہ ممکن اور آسان ہے

بہت سے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوشش کی جائے تو وزن کم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزن میں کمی اور اسے برقرار رکھنا ایک پیچیدہ طبی عمل ہے۔ جسم کے ہارمون وزن کم ہونے کے بعد اسے واپس بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے صرف ارادے کی بات نہیں بلکہ طبی رہنمائی ضروری ہے۔


مرحلہ وار: صحت مند وزن کی طرف عملی اقدامات

  1. اپنا BMI اور کمر کا گھیراؤ ناپیں تاکہ صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔
  2. ڈاکٹر سے طبی جانچ کروائیں تاکہ ہارمونی یا دیگر بیماریوں کا امکان رد ہو۔
  3. غذائی ماہر کی رہنمائی لیں نہ کہ انٹرنیٹ پر دستیاب غذائی منصوبے اپنائیں۔
  4. روزانہ کم از کم 30 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی اپنائیں جیسے چہل قدمی یا تیراکی۔
  5. نیند کا خیال رکھیں کیونکہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند وزن پر اثر انداز ہوتی ہے۔
  6. میٹھے مشروبات کو پانی سے بدلیں یہ ایک چھوٹا لیکن مؤثر قدم ہے۔
  7. پیشرفت کو ہفتہ وار ناپیں اور حوصلہ برقرار رکھیں۔
  8. ذہنی صحت کو نظرانداز نہ کریں کیونکہ ڈپریشن وزن کو بڑھاتا ہے۔

موٹاپا:اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کیا موٹاپا ایک بیماری ہے یا عادت؟

موٹاپا ایک پیچیدہ دائمی بیماری ہے جس میں جینیاتی، ہارمونی، اور ماحولیاتی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اسے محض کھانے کی بری عادت نہیں کہا جا سکتا۔

سوال: کیا موٹاپا لازمی طور پر ذیابیطس کا سبب بنتا ہے؟

ہر موٹاپے کا شکار شخص ذیابیطس میں مبتلا نہیں ہوتا لیکن اس کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ خاندانی تاریخ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سوال: بچوں میں موٹاپا کتنا خطرناک ہے؟

بچوں میں موٹاپا فوری اور طویل مدتی دونوں طرح کے خطرات رکھتا ہے۔ اس سے ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور، اور نفسیاتی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سوال: کیا صرف ورزش سے موٹاپا ختم ہو سکتا ہے؟

ورزش اہم ہے لیکن اکیلے ورزش سے بڑے پیمانے پر وزن کم کرنا مشکل ہے۔ غذا، نیند اور طبی رہنمائی کا مجموعہ ضروری ہے۔

سوال: پاکستانی خواتین میں موٹاپا زیادہ کیوں ہے؟

محدود جسمانی سرگرمی، حمل کے بعد غذائی عادات، ہارمونی تبدیلیاں جیسے پی سی او ایس، اور سماجی پابندیاں خواتین میں موٹاپے کو بڑھانے والے اہم عوامل ہیں۔

سوال: کیا بیریاٹرک سرجری مستقل حل ہے؟

یہ سرجری موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں میں نمایاں بہتری لاتی ہے لیکن طرزِ زندگی میں مستقل تبدیلی کے بغیر وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔

خلاصہ

موٹاپا ایک کثیر الجہتی طبی مسئلہ ہے جو دل، گردوں، جوڑوں، جگر، پھیپھڑوں اور دماغ سمیت تقریباً ہر نظام کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں اس کی بڑھتی ہوئی شرح ذیابیطس اور امراضِ قلب کی وبا کو مزید تیز کر رہی ہے۔ موٹاپے کو سمجھنا، اسے بطور بیماری تسلیم کرنا اور وقت پر طبی رہنمائی لینا صحت کے تحفظ کا بنیادی قدم ہے۔

Leave a Comment